Monday, 13 November, 2006, 02:48 GMT 07:48 PST
لبنانی صدر امیل لحود نے کہا ہے کہ وزراء کے مسلسل استعفوں کے بعد حکومت کے رہنے کا استحقاق ختم ہو گیا ہے۔
سنیچر کو حزب اللہ اور امل کے وزرا نے کابینہ سے علیحدگی اختیار کر لی تھی اور استعفے دیدیے تھے۔
حزب اللہ کے ایک مستعفی وزیر محمد جواد خلیفہ نے ان استعفوں کا جواز بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’موجودہ کابینہ لبنان کی سیاسی منظر نامہ پر ظاہر ہونے والی تبدیلیوں کی عکاس نہیں ہے‘۔
حکومت وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کے سلسلے میں ایک ٹریبونل بنانے کے لیے اقوام متحدہ سے منظور کیے جانے کے لیے ایک مسودے پر غور کرنے والی ہے۔
لبنان پر اسرائیل کے حملے کے بعد سے ہی کافی کھنچاؤ کی صورتِ حال ہے اور اب لبنان کے وزیر اعظم فواد سینورا نے کہا ہے کہ وہ اسعفے منظور نہیں کریں گے۔
حزب اللہ نے جو حکومت میں زیادہ مؤثر کردار چاہتی ہے کہا ہے کہ اس کے وزراء استعفے واپس نہیں لیں گے۔
اس کے علاوہ حزب اللہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے مطابات منظور نہیں کیے گئے تو وہ بڑے پیمانے پر مظاہرے کرے گی۔
اس بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ جلد ہی بات پھر شروع ہو سکتی ہے اور معاملات طے پا سکتے ہیں۔ ان مبصرین کے مطابق استعفوں سے حکومت تو ختم نہیں ہو گی لیکن اس کے لیے دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ان وزیروں میں حزب اللہ کے دو وزیر اور اس کے ساتھ ان کی اتحادی ، امل تحریک کی تین وزیر شامل ہیں۔
اس سال اگست میں بھی حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ارکان نے لبنان کی کابینہ کے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی دے دی تھی جس میں اسرائیل کے ساتھ فائر بندی کا معاملہ زیر بحث آنا تھا۔
حزب اللہ لبنان کی سب سے اہم عسکری طاقت ہے جس کی حمایت کا بہت بڑا منبع وہ شیعہ آبادی ہے جو اس علاقے میں رہتی ہے جہاں سے اسے نکلنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔