Monday, 13 November, 2006, 05:55 GMT 10:55 PST
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اپیل کی ہے کہ عراق اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایران اور شام سے بات کی جانی چاہیے۔
ان کی یہ اپیل ان خبروں کے بعد آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ عراق کے مسقبل پر ایران اور شام سے بات کی جانی چاہیے۔
وائٹ ہاؤس کے چیف آف سٹاف جوشوا بولٹن نے ٹیلی ویزن پر کہا تھا کہ صدر بش عراق کے بارے میں اس پینل کی تمام تجاویز پر غور کریں گے جسے عراق سٹڈی گروپ کا نام دیا جا رہا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گروپ اس بات کے حق میں ہے کہ امن کے لیے تہران اور دمشق سے رابطے کیے جانے چاہپیں۔
اب برطانوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کو ان نتائج سے متنبہ کیا جانا چاہیے جو خطے کے لیے مجموعی حکمت عملی میں تعاون نہ کرنے کے نتیجے میں پیش آ سکتے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ لندن میں خارجہ پالیسی کے بارے میں اپنی اہم تقریر کے دوران ٹونی بلیئر امریکہ سے برطانیہ کے قریبی تعلقات کا دفاع کریں گے۔
وزیراعظم کے ایک معاون نے کہا ہے کہ لندن میں لارڈ میئر کی جانب سے دی جانے والی ضیافت میں خطاب کے دوران مسٹر بلیئر ’شام اور ایران پر ان بنیادوں کی وضژاحت کریں گے جن کی بنیاد پر مشرق وسطٰی میں امن کو فروغ دینے کے لیے تعون کرنا چاہیے اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اس کے نتائج کیا نکل سکتے ہیں‘۔