http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 13 November, 2006, 19:07 GMT 00:07 PST

’شام اورایران اپنا کردار ادا کریں‘

عراق میں موجودہ بدامنی کے خاتمے کے لیے شام اور ایران کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ عراق میں صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے شام اور ایران سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

صدر جارج بش نےسوموار کے روز عراق کے بارے میں امریکی پالیسی میں تبدیلیوں پر غور کرنے کے قائم کیے جانے والے کثیر الجماعتی سٹڈی گروپ سے ملاقات کی۔

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر منگل کو عراق سٹڈی گروپ کے اراکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے تبادلہ خیال کریں گے۔عراق سٹڈی گروہ اس سال کے اختتام تک اپنی سفارشات دینے والا ہے۔

امریکہ میں شام کے سفیر عماد مصطفٰی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہے کہ ان کا ملک عراق میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن پہلے امریکہ کو یہ ماننا ہوگا کہ عراق میں اس کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔

ادھر برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر شام اور ایران کو عراق کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دینے کے لیے کہنے والے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کے ایک معاون نے کہا ہے کہ سوموار کے روز اپنی تقریر میں شام اور ایران پر یہ واضح کریں گے کہ وہ مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے کیا رول ادا کر سکتے ہیں اور ایسا نہ کرنے پر دونوں ممالک کے لیے کیا اثرات ہوں گے۔‘

عماد مصطفیٰ نے کہا کہ اگر عراقی عوام چاہیں گے تو شام عراق میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

سفیر نے کہا کہ شام کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے لیکن وہ ماضی کی طرح اب بھی اپنا کردار کرنے کی کوشش کرے گا۔

ایک خبر رساں ادارے نے ایران کے وزیر خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر (امریکہ) ایران سے بات چیت کرنا چاہتا ہے تو اسے سرکاری طور اس کی تجویز دینی ہو گی جس پر ایران غور کرے گا۔

امریکی صدر کے چیف آف سٹاف جاش بولٹن نے کہا ہے کہ صدر بش عراق میں صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے تمام آپشنز پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔