Monday, 13 November, 2006, 11:04 GMT 16:04 PST
انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی عالمی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے امریکہ، آسٹریلیا اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ آزادانہ تجارت کے مجوزہ معاہدوں کو وہاں مزدوروں کے حالات کار بین الاقوامی میعار کے مطابق کرنے سے مشروط کیا جائے۔
اپنی ایک رپورٹ ’بلڈنگ ٹاورز، چیٹنگ ورکرز‘ یعنی ’بلندوبالا عمارتیں اور مزدوروں کا استحصال‘ میں ہیومن رائٹس واچ نے امارات میں دوسرے ممالک سے آئے تعمیراتی مزدوروں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق امارات میں بلندوبالا عمارتوں، پر تعیش سیرگاہوں اور جائیداد کی وسیع پیمانے پر خرید وفروخت کی وجہ سے ان خلیجی ریاستوں کو معاشی ترقی کی ایک علامت کے طور دیکھا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت کم از کم پانچ لاکھ تارکین وطن تعمیراتی شعبے میں محنت مزدوری سے وابستہ ہیں۔
یو اے ای میں افرادی قوت کا تقریباً پچانوے فیصد غیر ممالک سے آئے ہوئے افراد پر مشتمل ہے اور تعمیراتی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے تعلق رکھتی ہے۔ سال دو ہزار پانچ میں امارات میں تارک وطن مزدوروں کی تعداد ستائیس لاکھ اڑتیس ہزار تھی۔
متحدہ عرب امارات کے لیبر قوانین کے مطابق کام کے دوران زخمی ہونے یا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کی صورت میں آجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذکورہ مزدور کو یا اس کے خاندان کو معاوضہ دے لیکن ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ایسا کم ہی ہوتا ہے۔
زیادہ تر تعمیراتی ادارے کام کے دوران ملازمین کو پیش آنے والے حادثات کا ریکارڈ ہی نے نہیں رکھتے۔ ہیومن رائٹس واچ کی معلومات کے مطابق امارات دو لاکھ چالیس ہزار ایسے ادارے ہیں جو دوسرے ممالک سے آئے مزدوروں کی خدمات حاصل کرتے ہیں لیکن ان اداروں پر نظر رکھنے کے لیے صرف ایک سو چالیس انسپکٹر تعینات ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق امارات کی حکومت مزدوروں کو کم سے کم اجرت (مینیم اجرت) دلانے میں ناکام ہے اور خون پسینہ ایک کرنے کے بعد مزدور کو ماہانہ اجرت 175 امریکی ڈالر ملتی ہے، جو کہ خلیجی ریاستوں میں مجموعی ماہانہ فی کس آمدنی 2106 امریکی ڈالر سے کوسوں دور ہے۔
مزدوروں کو نہ تو تنظیم کاری کی اجازت ہے اور نہ آجروں کے ساتھ حالات کار کے حوالے سے سودے بازی کی۔ مارچ 2006 میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اس سال کے آخر تک ایسے قوانین متعارف کرائے جائیں گے، جن کے تحت مزدوروں کو تنظیم کاری کا حق حاصل ہوگا۔ لیکن ہیومن رائٹسں واچ کے مطابق اکتوبر کے اوائل تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سال 2004 میں چونتیس اور سال 2005 میں انتالیس مزدور دبئی میں کام کے دوران زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لیکن آزادانہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سال 2004 میں صرف بھارت سے تعلق رکھنے والے چونتیس مزدور کام سے متعلق حادثات کی نذر ہوئے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق امارات حکومت نے مزدوروں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات ضرور کیئے ہیں جن میں ’مستقل کمیشن برائے امور محنت‘ اور دبئی پولیس میں انسانی حقوق کے محکمے کا قیام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں ابوظہبی کت حکومت نے ایک ایسا قانون متعارف کروایا ہے جس کے تحت آجر اپنے ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے کے پابند ہونگے۔
رپورٹ میں امارات کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تارک وطن مزدوروں کی حالت زار جاننے کے لیے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کرے، جبکہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ امارات میں قائم ان کے سفارت خانے اپنے ملک سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کی بہتری کے لیے مستعدی سے کام کریں۔