Sunday, 12 November, 2006, 05:59 GMT 10:59 PST
سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرار داد ویٹو کرنے پر عرب ممالک امریکہ پر تنقید کر رہے ہیں اور غزہ میں حملے کرنے پر اسرائیل کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
قرار داد کا مسودہ بدھ کو غزہ کے علاقے بیت حانون پر اسرائیلی بمباری کے واقعے کے بعد پیش کیا گیا تھا۔ اسرائیل کے اس حملے میں انیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔
فلسطینی اتھارٹی کے ایک ترجمان غازی حماد نے کہا ہے کہ امریکی ویٹو نے امریکہ کو مزید حملوں کی راہ دکھائی ہے۔
سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے دس ارکان نے اس قرار داد کی حمایت کی۔ جب کے چار نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ رائے شماری میں حصہ نہ لینے والے ممالک میں برطانیہ، ڈنمارک، جاپان اور سلواکیہ شامل تھے۔
اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا ٹریویلین کا کہنا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرار دادوں کو ویٹو کرنے کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اسرائیل کے خلاف پیش کی جانے والی قرار دادیں تعصب پر مبنی ہوتی ہیں۔
تاہم قطر کی جانب سے پیش کی جانے والی قرار داد کو اسلامی اور غیر جانبدار ملکوں کی حمایت حاصل تھی اور اس میں غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس قرارداد میں یہ مھالبہ بھی کیا گیا تھا کہ بیت حانون پر اسرائیلی بمباری کی تحقیقات کے لیے اقوا متحدہ کے سکریٹری جنرل ایک کمیشن تشکیل دیں۔
اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر ژاں مارک ڈی لا سیب لیخ نے قرار داد کے بارے میں کہا ہے کہ قرار داد متوازن تھی اور خطے میں قیامِ امن کے لیے اس قرار داد کا منظور ہونا ضروری تھا۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی مندوب ریاض منصور نے کہا ہے کہ ’اس قرار داد کے منظور4 نہ ہونے سے اسرائیلی انتہا پسندوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ وہ قانون کی گرفت سے بالا ہیں اور اپنی جارحیت جاری رکھ سکتے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دوسرا پیغام اس قراداد کی نامنظوری سے فلسطینی عوام کو دیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل انصاف اور عدل کا ساتھ دینے سے کترا رہی ہے‘۔