Sunday, 12 November, 2006, 05:41 GMT 10:41 PST
انتہا پسند شیعہ تحریک حزب اللہ کابینہ سے اپنے وزرا کی علیحدگی اور استعفوں کی وضاحت کر رہی ہے اور لبنان کے وزیر اعظم فواد سینورا نے اعلان کیا ہے کہ اسعفے منظور نہیں کیے جائیں گے۔
حزب اللہ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ اس کے تمام پانچ شیعہ وزیروں نے حکومت کو اپنے استعفے پیش کر دیئے ہیں۔
حزب اللہ کے ایک مستعفی وزیر محمد جواد خلیفہ نے بتایا ہے کہ موجودہ کابینہ لبنان کی سیاسی منظر نامہ پر ظاہر ہونے والی تبدیلیوں کی عکاس نہیں ہے۔
ادھر لبنان کے وزیر اعظم فواد سینیورا نے کہا ہے کہ استعفے منظور نہیں کیے جائیں گے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ جلد ہی بات پھر شروع ہو سکتی ہے اور لبناننمیں معاملات طے پا سکتے ہیں۔ ان مبصرین کے مطابق استعفوں سے حکومت تو ختم نہیں ہو گی لیکن اس کے لیے دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ان وزیروں میں حزب اللہ کے دو وزیر اور اس کے ساتھ ان کی اتحادی ، امل تحریک کی تین وزیر شامل ہیں۔ اس بات کا اعلان اس وقت کیا گیا جب حزب اللہ کے مطالبے پر کہ انہیں حکومت میں زیادہ جگہ دی جائے پر ہونے والی کثیرالجماعتی بات چیت کسی معاہدے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئی۔
حزب اللہ جسے ایران اور شام کی حمایت حاصل ہے کا مطالبہ تھا کہ اسے حکومت میں زیادہ نشستیں دی جائیں تاکہ ان کے پاس یہ طاقت ہو کہ وہ کابینہ کے فیصلوں کو ویٹو کر سکیں۔ لیکن لبنان کی پارلیمان کی اکثریت نے حزب اللہ کے اس مطالبے کو رد کیا ہے۔
لبنان کے وزیرِ اعظم فواد السنیورہ نے یہ استعفے منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے اس عمل سے شام کی سیاست مسائل کا شکار ہو گئی ہے لیکن ان استعفوں سے حکومت کا خاتمہ نہیں ہو گا۔
اس سال اگست میں بھی حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ارکان نے لبنان کی کابینہ کے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی دے دی تھی جس میں اسرائیل کے ساتھ فائر بندی کا معاملہ زیر بحث آنا تھا۔ یاد رہے کہ جولائی میں حزب اللہ نے اسرائیل کے دو فوجی اغوا کر لیے تھے۔
حزب اللہ لبنان کی سب سے اہم عسکری طاقت ہے جس کی حمایت کا بہت بڑا منبع وہ شیعہ آبادی ہے جو اس علاقے میں رہتی ہے جہاں سے اسے نکلنے کے لیئے کہا جا رہا ہے۔