Saturday, 11 November, 2006, 18:04 GMT 23:04 PST
انتہا پسند شیعہ تحریک حزب اللہ نے کہا ہے کہ ان کے تمام پانچ شعیہ وزیروں نے لبنان حکومت کو اپنے استعفے پیش کر دیئے ہیں۔
ان وزیروں میں حزب اللہ کے دو وزیر اور اس کے ساتھ ان کی اتحادی ، امل تحریک کی تین وزیر شامل ہیں۔ اس بات کا اعلان اس وقت کیا گیا جب حزب اللہ کے مطالبے پر کہ انہیں حکومت میں زیادہ جگہ دی جائے پر ہونے والی کثیرالجماعتی بات چیت کسی معاہدے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئی۔
حزب اللہ جسے ایران اور شام کی حمایت حاصل ہے کا مطالبہ تھا کہ اسے حکومت میں زیادہ نشستیں دی جائیں تاکہ ان کے پاس یہ طاقت ہو کہ وہ کابینہ کے فیصلوں کو ویٹو کر سکیں۔ لیکن لبنان کی پارلیمان کی اکثریت نے حزب اللہ کے اس مطالبے کو رد کیا ہے۔
لبنان کے وزیرِ اعظم فواد السنیورہ نے یہ استعفے منظور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے اس عمل سے شام کی سیاست مسائل کا شکار ہو گئی ہے لیکن ان استعفوں سے حکومت کا خاتمہ نہیں ہو گا۔
اس سال اگست میں بھی حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ارکان نے لبنان کی کابینہ کے اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی دے دی تھی جس میں اسرائیل کے ساتھ فائر بندی کا معاملہ زیر بحث آنا تھا۔ یاد رہے کہ جولائی میں حزب اللہ نے اسرائیل کے دو فوجی اغوا کر لیے تھے۔
حزب اللہ لبنان کی سب سے اہم عسکری طاقت ہے جس کی حمایت کا بہت بڑا منبع وہ شیعہ آبادی ہے جو اس علاقے میں رہتی ہے جہاں سے اسے نکلنے کے لیئے کہا جا رہا ہے۔