Saturday, 11 November, 2006, 01:06 GMT 06:06 PST
وزیراعظم اسماعيل ہنیہ نے کہا ہے کہ وہ فلسطین کو دی جانے والی مغربی ملکوں کی امداد بحال کرانے کے لیے مستعفی ہونے کیلیے تیار ہیں۔
مغربی ملکوں نے حماس حکومت کی تشکیل کے بعد سے فلسطین کو دی جانے والی امداد بند کی ہوئی ہے۔فلسطینی وزیراعظم کی یہ پیشکش فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ایک ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں متحدہ حکومت کی تشکیل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ ’اگر ہمیں محاصرے اور میری ذات میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے لیے کہا جائے تو ہم محاصرہ ختم کرانے کو ترجیح دیں گے‘۔
مغربی ملک حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں اور انتخابات میں حماس کی کامیابی اور بعد میں حکومت کی تشکیل کے بعد امریکہ اور مغربی ممالک نے یہ شرائط لگائی تھیں کہ اگر حماس اسرائیل کو تسلیم، دہشت گردی کی مذمت اور اسرائل و فلسطین کے درمیان ہونے والے معاہدوں کث تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کرتی تو اس کی حکومت کے دوران فلسطین کو کوئی امداد نہیں دی جائے گی۔
اسماعیل ہنیہ نے غزہ میں ایک مسجد کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مغرب نے یہ شرط لگائی تھی کہ جب تک وزیراعظم تبدیل نہیں ہوتا محاصرہ ختم نہیں کیا جائے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ یونٹی حکومت کی تشکیل پر بات چیت جاری ہے اور توقع ہے کہ تین ہفتے میں نئی کابینہ تشکیل پا جائے گی اور اس کے فلسطین کی امداد بھی بحال ہو جائے گی۔