Friday, 10 November, 2006, 08:26 GMT 13:26 PST
مصر کے صدر حسنی مبارک نے خبردار کیا ہے کہ اگر معزول عراقی صدر صدام حسین کو پھانسی دی گئی تو اس سے عراق میں خونریزی میں مزید اضافہ ہوگا۔
صدر مبارک کا یہ بیان مصری اخبارات میں شائع ہوا ہے اور یہ صدام حسین کے سزائے موت کے فیصلے پر کسی عرب رہنما کا پہلا بیان ہے۔
مصری صدر کا کہنا ہے کہ اگر صدام حسین کو پھانسی دے دی جاتی ہے تو اس سے محض اور خون خرابہ ہوگا اور فرقہ وارانہ اور نسلی فسادات اور اختلافات میں اضافہ ہوگا۔
صدر مبارک کے مطابق اگر صدام حسین کی موت کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا تو ’عراق خون کا دریا بن جائے گا۔‘
صدر حسنی مبارک برسوں سے صدام حسین کے مخالف رہے ہیں اور ان پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ صدام حسین کو پھانسی دینے کے حق میں نہیں ہیں۔
سابق عراقی صدر صدام حسین کو عراقی عدالت نے پانچ نومبر کو سزائے موت سنائی تھی۔ اس کے کچھ روز بعد عراقی وزیر اعظم نور الملکی نے کہا تھا کہ صدام حسین کو اگلے دو ماہ کے اندر پھانسی دے دی جائے گی۔