Wednesday, 08 November, 2006, 08:47 GMT 13:47 PST
امریکہ کے درمیانی مدت کے انتخابات میں جن کو صدر بش کی پالیسیوں کے خلاف ریفرنڈم قرار دیا جا رہا تھا ڈیموکریٹ پارٹی ایوان نمائندگان پر رپبلکن پارٹی کا بارہ سالہ غلبہ ختم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے جبکہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیئے انہیں دو مزید نشستیں درکار ہیں۔ووٹوں کی گنتی ابھی جاری ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق امریکی ایوان بالا یا سینیٹ میں حزب اختلاف کی ڈیموکریٹ پارٹی، کنیٹیکٹ سے آزاد امیدوار جوزف لائبرمین اور ورمنوٹ سے برنی سینڈرز کی کامیابی کی وجہ سے اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
غیر حتمی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سینیٹ میں رپبلکن اراکین کی تعداد انتالیس جبکہ ڈیموکریٹس کی تعداد چھیالس ہو جائے گئی۔
پولنگ کے بعد رات گئے واہٹ ہاؤس نے اعتراف کیا کہ ڈیموکریٹ پارٹی ایوان نمائندگان میں کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
ایوان زیریں کی کل چارسو پینتس نشستوں میں سے ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکین کی تعداد دو سو ستائیس تک پہنچتی نظر آتی ہے جبکہ حکمران رپبلکن پارٹی کے اراکین کی تعداد دو سو بتیس سے کم ہو کر ایک سو ترانوے رہے جائے گئی۔
امریکی سیاسی تاریخ کے ان اہم انتخابات کی سب سے قابل ذکر بات کانگرس میں پہلی مرتبہ ایک مسلمان امیدوار کی کامیابی ہے۔ امریکی ریاست منیسوٹا سے ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار کیتھ ایلسن پہلے مسلمان امیدوار ہیں جو امریکی ایوان نمائندگان کا رکن بننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
![]() | |
| نینسی پالوسی ایوان نمائندگان کی پہلی خاتون سپیکر ہوں گی۔ |
امریکی نظامِ حکومت میں ایوان نمائندگان کے سپیکر کا درجہ امریکی صدر اور نائب صدر کے بعد آتا ہے۔
انتخابات میں جیت کے بعد ڈیموکریٹ پارٹی کے رہمناؤں نے عراقی صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور کہا وہاں حالات کو بدلنے کے لیے حکمت عملی بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔
ڈیموکریٹ پارٹی نے سینٹ کےانتخابات میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ریپبلیکن پارٹی کے تین مضبوط امیدوراوں کو ہرا کر سینٹ میں اپنی پوزیشن پہلے سے بہتر بنا لی ہے۔
منگل کو ہونے والے درمیانی مدت کے ان انتخابات میں ایوان نمائندگان کی چار سو پینتیس اور ایوانِ بالا کی ایک تہائی یعنی سو میں سے تینتیس نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے تھے۔ ان کے علاوہ امریکی عوام نے چھتیس ریاستوں میں گورنر کے عہدے کے لیے بھی ووٹ ڈالے۔
آئندہ صدراتی انتخابات میں متوقع ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن دوبارہ سینیٹر منتخب ہوگئی ہیں۔
ڈیموکریٹ پارٹی نے سینیٹ کی تین نشتوں کے علاوہ ریاست اوہائیو میں گورنر کی نشت بھی حاصل کر لی ہے۔
ریپبلیکن پارٹی کے آرنلڈ شیوزنیگر دوبارہ کیلفورنیا کے گورنر منختب ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ریاست پینسلوینیا میں ڈیموکریٹک امیدوار بوب کیسی نے ریپبلیکن امیدوار کو ہرا کر سینٹ کی اہم نشت جیت لی ہے۔
سابق ڈیموکریٹ سینٹر جوزف لبرمین نے آزاد امیدوار کی حثیت سے سینٹ کی نشت جیت لی ہے۔جوزف لبرمین کا شمار عراق جنگ کے شدید حمایتوں میں ہوتا ہے اور وہ امریکی صدر جارج بش کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔
الیکشن حکام نے کہا ہے چھ ریاستوں کے کچھ پولنگ سٹیشنوں پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی کی وجہ پولنگ روکنا پڑی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ووٹنگ کے وقت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ریاست ورجنیا میں ایف بی آئی نےالیکشن حکام کی شکایت پر کچھ لوگوں کو فون پر دھمکیاں دینے اور الیکٹرانک مشینوں کے خراب ہونے کی تحقیق شروع کر دی ہے۔
ان انتخابات میں عراق میں جنگ سب سے اہم موضوع رہا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ عراق موجودہ صورتحال صدر بش کی ٹیم کی نااہلی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔
![]() | |
| آرنلڈشیورزنگر دوبارہ کیلفورنیا کے گورنر منتخب ہو گئے ہیں۔ |
امریکی صدر جارج بش ریپبلیکن نے اور سابق صدر بل کلنٹن ڈیموکریٹ امیدواروں کی انتخابی مہم میں شریک تھے۔