Wednesday, 08 November, 2006, 01:49 GMT 06:49 PST
امریکہ کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی نے ایوان نمائندگان پر سے صدر بش کی جماعت ریپبلیکن کا بارہ سالہ غلبہ ختم کر دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کے اندازوں کے مطابق ڈیموکریٹ پارٹی نے ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو تسلیم کر لیا ہے۔
ڈیموکریٹ پارٹی کی کامیابی سے امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان نمائندگان کی خاتون سپیکر بنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ایوان نمائندگان میں اپوزیشن لیڈر نینسی پالوسی پہلے خاتون سپیکر ہوں گی۔
امریکہ نظام حکومت میں ایوان نمائندگان کے سپیکر کا درجہ امریکی صدر اور نائب صدر کے بعد آتا ہے۔
انتخابات میں جیت کے بعد ڈیموکریٹ پارٹی کے رہمناؤں نے عراقی صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور کہا وہاں حالات کو بدلنے کے لیے حکمت عملی بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔
امریکی شہری ایوانِ نمائندگان کے چار سو پینتیس اراکین اور ایوانِ بالا کے ایک تہائی یعنی سو میں سے تینتیس اراکین کا انتخاب کر رہے ہیں۔امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے چھتیس ریاستوں میں گورنر کے عہدے کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے ہیں۔
آئندہ صدراتی انتخابات میں متوقع ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن دوبارہ سینٹر منتخب ہوگئی ہیں۔
ڈیموکریٹ پارٹی نے سینٹ کی تین نشتوں کے علاوہ ریاست اوہاؤ میں گورنر کی نشت بھی حاصل کر لی ہے۔
ریپبلیکن پارٹی کے آرنلڈ شیوزنیگر دوبارہ کیلفورنیا کے گورنر منختب ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ریاست پینسلوینیا میں ڈیموکریٹ امیدوار بوب کیسی نے ریپبلیکن امیدوار کو ہرا کر سینٹ کی اہم نشت جیت لی ہے۔
سابق ڈیموکریٹ سینٹر جوزف لبرمین نے آزاد امیدوار کی حثیت سے سینٹ کی نشت جیت لی ہے۔جوزف لبرمین کا شمار عراق جنگ کے شدید حمایتوں میں ہوتا ہے اور وہ امریکی صدر جارج بش کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔
الیکشن حکام نے کہا ہے چھ ریاستوں کے کچھ پولنگ سٹیشنوں پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی کی وجہ پولنگ روکنا پڑی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ووٹنگ کے وقت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ریاست ورجنیا میں ایف بی آئی نےالیکشن حکام کی شکایت پر کچھ لوگوں کو فون پر دھمکیاں دینے اور الیکٹرانک مشینوں کے خراب ہونے کی تحقیق شروع کر دی ہے۔
امریکی ووٹر کی ایک بڑی تعداد نےاپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔امریکہ میں بیس کروڑ شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
ان انتخابات میں عراق میں جنگ سب سے اہم موضوع رہا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ عراق موجودہ صورتحال صدر بش کی ٹیم کی نااہلی کی وجہ سے پیدا ہوئی۔
![]() | |
| آرنلڈشیورزنگر دوبارہ کیلفورنیا کے گورنر منتخب ہو گئے ہیں۔ |
امریکی صدر جارج بش ریپبلیکن نے اور سابق صدر بل کلنٹن ڈیموکریٹ امیدواروں کی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔
ڈیموکریٹس کو کانگریس میں اپنا پلڑا بھاری کرنے کے لیے ایوانِ نمائندگان میں مزید پندرہ جبکہ سینٹ میں مزید چھ نشستیں جیتنا ضروری ہے۔
امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے چھتیس ریاستوں میں گورنر کے عہدے کے لیے بھی مقابلہ ہو رہا ہے۔