Tuesday, 07 November, 2006, 21:44 GMT 02:44 PST
عراقی وزیراعظم نور المالکی نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ صدام حسین کو اسی سال کے اختتام تک پھانسی دے جائی گی۔
صدام حسین کو چند روز پہلے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی جس کے خلاف اپیل ابھی سنی جانی ہے۔
عراقی قانون کے تحت پھانسی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت نو رکنی اپیلٹ عدالت کرے گی۔اگر اپیلٹ عدالت نے بھی سزائے موت برقرار رکھی تو صدام حسین کو ایک ماہ کے اندر پھانسی دینا لازم ہو گا۔
ایک مقدمے میں پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد صدام حسین کے خلاف دوسرے مقدمے کی سماعت شروع کر دی گئی جس میں جرم ثابت ہونے پر انہیں پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے۔
عراقی وزیر اعظم نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ صدام حسین کو پھانسی نہ دینے کے کسی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور انہیں امید ہے کہ دنیا عراق کے عدالتی نظام میں دخل دینے کی کوشش نہیں کرے گی۔
عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ عراق کی فوج چند ماہ میں اس قابل ہو جائے گی کہ وہ وہ امریکی اور اس کے اتحادیوں کی مدد کے بغیر ہی مزاحمت کارروں کا مقابلہ کر سکے اور عراقی کی سکیورٹی کی صورتحال اپنے کنٹرول میں لے لے۔
عراقی وزیر اعظم نے امریکہ کی سربراہی میں عراق پر حملہ کرنے والے ملکوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حملہ کرنے سے پہلے عراق کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ امریکی اور برطانوی افواج نے عراق پر حملے سے پہلے عراق کے سماجی اور سیاسی حالات کے بارے میں اگاہی حاصل کی ہو گی۔
عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی اور برطانوی افواج کے پاس صدام حسین کی حکومت کو گرانے کے علاوہ کوئی منصوبہ نہیں تھا۔