Tuesday, 07 November, 2006, 00:02 GMT 05:02 PST
امریکہ میں ایوان نمائندگان کے چار سو پینتیس اور سینٹ کے ایک تہائی ارکان کے چناؤ کے لیے منگل کے روز ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔انتخابی جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹ پارٹی کو ریپبلیکن جماعت پر معمولی برتری حاصل ہے۔
انتخابی سروں کے مطابق ڈیموکریٹ پارٹی کو برتری حاصل ہے لیکن انتخابی مہم کے آخری ایام میں صدر بش کی جماعت ریپبلیکن کی حمایت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
دونوں جماعتیں انتخابی مہم کے آخری مراحل میں ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ امریکی صدر جارج بش ریپبلیکن اور سابق صدر بل کلنٹن ڈیموکریٹ امیدواروں کی انتخابی مہم میں شریک ہیں۔
صدر بش کے دور اقتدار میں ریپبلیکن کو کانگریس پر مکمل برتری رہی ہے اور اس نے حکومت کی تقریباًً ہر پالیسی کی حمایت کی ہے۔
عراق میں امریکی جنگ وسط مدتی انتخابات میں سب سے نمایاں موضوع رہی۔ڈیموکریٹ امیدواروں نے حکومت کی عراق پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی صدر جارج بش جن کی مقبولیت کا گراف کافی گر چکا ہے ان کو کئی ریپبلیکن امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم میں اس بنا پر بلانا مناسب نہیں سمجھا کہ اس سے ان کی جیت کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
البتہ امریکی صدر نےانتخابی مہم کے آخری ایام میں کئی ریاستوں کا دورہ کیا اور لوگوں کو ریپبلکن امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی۔
ڈیموکریٹس کو کانگریس میں اپنا پلڑا بھاری کرنے کے لیے ایوانِ نمائندگان میں مزید پندرہ جبکہ سینٹ میں مزید چھ نشستیں جیتنا ضروری ہے۔
امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے چھتیس ریاستوں میں گورنر کے عہدے کے لیے بھی مقابلہ ہو رہا ہے۔