عارف آزاد
لندن
جہاد اور القاعدہ کے موضوع پر انگریزی مصنفین کی کتابوں کی تو بھرمار ہے لیکن ان موضوعات پر مسلمان مصنفین کی تحقیقی کتا بوں کی کمی ہے۔
جب مظہر زیدی نے مجھے ’لینڈسکیپس آف دی جہاد‘ کے مصنف فیصل دیوجی کا انٹرویو کرنےکے لیے کہا تو میں نے فورٌا قبول کر لی۔
پہلی ملاقات کیونز پا رک کے علاقے مقامی پولیس سٹیشن کے باہر ہونا طے پائی۔ مقامِ ملاقات کی نوعیت سے ذہن میں القاعدہ، پولیس اور قومی سلامتی کے رشتے کے سوال منڈلانے لگے۔
کرتے پاجامے میں ملبوس فیصل دیو جی نے پب تک میری رہنمائی کی۔ فیصل دیوجی انگریزی لکھنوی انداز میں بولتے ہیں۔
ابتدائی سوال پر فیصل نے بتایا کہ ان کا تعلق ممبئی کے خوجہ گھرانے سے ہے لیکن وہ افریقہ کےملک تنزانیہ میں پلے بڑھے ہیں۔ مختلف برطانوی یونیورسٹیوں میں پڑھنے اور پڑھانے کے بعد آج کل امریکی یونیورسٹی میں تعلیم دے رہے ہیں۔
فیصل کا خیال ہے کہ القاعدہ دوسری گلوبل تحریکوں مثلاً ماحولیاتی تحریک کی طرح کی ایک گلوبل تحریک ہے۔ مثال کے طور پرالقاعدہ کا مسلم امہ کا نظریہ اپنی جہت میں اسی طرح گلوبل ہے جیسے کہ ماحولیاتی تحریک کا نظریہ ہے۔
مزید یہ کہ القاعدہ کے بیانات اسی طرح ایتھیکل ہیں جس طرح ماحولیاتی تحریک کے۔ اس موازنے کو محدود کرتے ہوئے فیصل کہتے ہیں ’ایک دوسری سطح پر القاعدہ اپنے سیاسی تشدد کے پروگرام میں گلوبل ماحولیاتی تحریکوں سے مختلف ہے‘۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’القاعدہ کو ایک سطح پر اطالوی سیاسی مفکر البرتوملوچی اور فرانسسی مفکر ایلن ترین کی نئی سماجی تنظیموں کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے‘۔
فیصل نے ایک اور سوال کے جواب میں بتایا کہ القاعدہ کے سیاسی اثرات کی موجودہ بنیاد صرف مشرقِ وسطی تک محدود نہیں رہی۔ اس کا اظہار ساؤتھ ایشیائی نژاد نوجوان مسلمانوں کے القاعدہ سے متاثر دہشتگردی کے منصوبے ہیں۔یہ ایک اہم مشاہدہ ہے لیکن حقیقت تویہ ہے کہ اب بھی القاعدہ کا ذہنی مرکزمشرق وسطیٰ ہی ہے۔
القاعدہ بیک وقت پیچدہ اور آسان مسئلہ ہے۔ سیاست دان اسے ایک آسان نقطۂ نظر سے دیکھ رہے ہیں جب کہ سنجیدہ لوگ القاعدہ کو ایک پیچیدہ عمل قرار دے رہے ہیں۔ امن کی راہ ان دونوں کے درمیان سے گزرتی ہے۔