Thursday, 02 November, 2006, 07:58 GMT 12:58 PST
ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے برطانوی مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ برطانوی شہریت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے برطانوی قوانین کا احترام کریں۔
محمد خاتمی منگل کو سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی سے اعزازی ڈگری حاصل کرنے کے لیے تین روزہ دورے پر برطانیہ پہنچے۔ بی بی سی سے ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے منصوبہ بندی کرنے پر حق بجانب ہے۔ تاہم ان کے مطابق عراق میں مداخلت کی وجہ سے برطانیہ میں انتہا پسندی میں مذید اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے عراق میں جاری مزاحمتی دہشت گردی کی سخت مذمت کی اور امریکی صدر جارج بُش کو انتہا پسند قرار دیا۔ سابق صدر خاتمی کا کہنا تھا کہ امریکہ کی طرف سے مشرقِ وُسطیٰ میں مغربی طرز کی جمہوریت قائم کرنے کی کوششیں مضحکہ خیز ہیں کیونکہ جمہوریت کو مختلف ثقافت اور حالات رکھنے والے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک برآمد نہیں کیا جا سکتا۔
سابق ایرانی صدر خاتمی نے مذید کہا کہ امریکہ کی عراق اور افغانستان میں مداخلت سے دہشت گردی میں کمی کی بجائے، اس کی نئی اقسام نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے عراق سے امریکی اور برطانوی فوج کو فوی طور پر واپس بلوانے کا مطالبہ کیا کیونکہ بقول ان کے، اس سے عالمی سطح پر تشدد کی ایک بڑی وجہ ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے برطانوی مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’آپ، پہلے برطانوی ہیں اس لیے آپ کو برطانوی قوانین کی پاسداری کرنی چاہیئے۔‘ سابق صدر خاتمی نے یہ اپیل بھی کی کہ عیسائی ملک میں اسلامی اقدار کا احترام کیا جائے۔
منگل کو جب سابق ایرانی صدر محمد خاتمی اپنی اعزازی ڈگری لینے کے لیے سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی پہنچے تو چند طلباء اور ایرانی جلاوطن شہریوں نے ان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران محمد خاتمی نے سرحدوں سے بالاتر دوستی پر زور دیا۔