http://bbc.com.im/urdu/

سری لنکا:مذاکرات میں پیش رفت نہیں

سری لنکا حکومت اور تامل ٹائگروں کے درمیان امن مذاکرات کے پہلے دن کسی خاص پیش رفت کی اطلاعات نہیں ہیں۔

جینیوا میں ہونے والےمذاکرات کا مقصد 2002 کے فائر بندی پر عمل درآمد کرانے کی کوشش کرناہے۔

واضح رہے کے گزشتہ جولائی سےاب تک سرکاری اعدادو شمار کےمطابق سکیورٹی فوج کے 327 اہلکار اور 128 عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

گزشتہ آٹھ ماہ میں یہ پہلا موقع ہے جب دونوں فریقوں کے نمائندے ایک چھت کے نیچےبیٹھے ہوں۔

انہوں نے کہاکہ ’ ہم نے ابھی تک صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے لیکن سری لنکا اور پوری دنیا کے عوام اب اور صبر نہیں کر سکتے۔‘
انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ تامل ٹائگر اور سری لنکا کی حکومت جینیوا کنوینشن کے تیئں جواب دہ ہیں۔

تامل ٹائیگر کے ترجمان نے کہا ک مذاکرات میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے جب کہ اس معاملے پر حکومت کی طرف سے کسی طرح کے ردعمل کا اظہانہیں کیا گیا۔

ادھر مذاکرات کے آغاز سے پہلے باغیوں کے ترجمان نے کہا تھا کہ مذاکرات کی کامیابی کا انحصار جافنااور سری لنکا کو جوڑنے والی شاہراہ کو پھر سے کھولنے پر منحصر کرتا ہے۔ ٹائیگر کے ترجمان دیا ماسٹر نے خبر رساں ادارہ اے پی کو بتایا ’ اگر اس مطالبے کو نہیں مانا گیا تو ہم مستقبل میں کسی اور مذاکرات کے لیئے تیار نہیں ہونگے۔‘

اس شاہراہ کو حکومت نےاگست میں بند کردیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دراصل یہ مذاکرات بین الاقوامی دباؤ کا نتیجہ ہیں اور اس کے لیے دونوں میں سے کوئی فریق تیار نہیں تھا۔پچھلی مرتبہ ایسے دو مذاکرات پہلے ہی نا کام ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد کے حالات میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ ادھر کینیڈا اور یورپی یونین نے تامل ٹائیگروں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے جبکہ دوسری طرف سری لنکا کی حکومت بین الاقوامی برادری میں ایک حد تک اپنا اعتماد کھورہی ہے۔

دونوں فریقوں پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔