Sunday, 29 October, 2006, 10:41 GMT 15:41 PST
اسرائیلی وزیر خارجہ تپیزی لیوینی نے قطر میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا ارادہ منسوخ کر دیا ہے۔
اسرائیلی ترجمان کے مطابق جب یہ پتا چلا کہ فلسطینی حکومت کی نمائندگی کرنے کے لیے حماس کے ارکان بھی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آئیں گے تو انہوں نے کانفرنس میں جانے سے انکار کر دیا۔
حماس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہوا ہے اور اس کے پارٹی ایجنڈے میں یہودی ریاست کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ قطر اور اسرائیل کے درمیان نہایت معمولی سطح کے سفارتی اور تجارتی تعلقات ہیں۔ اتوار کو دوحہ میں ہونے والی نئی یا دوبارہ بحال ہونے والی جمہوری حکومتوں کی بین الاقوامی کانفرنس میں اسرائیلی وزیر خارجہ کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
اسرائیلی ترجمان مارک ریگو نے اے ایف پی نیوز ایجنسی کو بتایا ’ جب یہ پتا چلا کہ قطر میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں فلسطین کی نمائندگی حماس کے کارکن کریں گے تو لیونی نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا‘۔ سن 1996 میں سابق اسرائیلی وزیراعظم شمن پیرز نے قطر کا دورہ کیا تھا۔
اتوار کو ہونے والی اس کانفرنس میں ستائیس ریاستوں کے نمائندے شرکت کریں گے اور اس میں عرب دنیا کی اصلاحات پر بحث متوقع ہے۔ اظہار کی آزادی اور سیاست میں عورتوں کا حصہ جیسے موضوعات بھی شامل بحث ہوں گے۔