Saturday, 28 October, 2006, 03:35 GMT 08:35 PST
بنگلہ دیش کے صدر ایازالدین احمد نے کہا ہے کہ ملک کے آئندہ انتخابات کے دوران وہ خود ملک میں نگران حکومت کی سربراہی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اس عہدے کے لیے ملک کی سیاسی جماعتوں میں کسی رہنما کے نام پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے لیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش کے قوانین کے مطابق جنوری کے انتخابات سے پہلے ملک کی باگ ڈور کسی غیر جانبدار شخص کے حوالے کی جانا ضروری ہے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے پہلے امیدوار کا نام مسترد کر دیا تھا جس کے بعد مظاہرے شروع ہو گئے جن میں ایک درجن افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل استعمال کیے۔
اس سے قبل جنوری کے صدراتی انتخابات تک حکومت چلانے کے لیے عبوری انتظامیہ کے حلف اٹھانے کی تقریب ملتوی کر دی گئی تھی۔
صدارتی ترجمان نے کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس کے ایم حسن جو کہ عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر حلف اٹھانے والے تھے علیل ہو گئے ہیں۔
جمعہ کو سبکدوش ہونے والی وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کی حکومت کی مدت پوری ہونے سے چند گھنٹے قبل ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور تشدد کے مختلف واقعات میں چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ خالدہ ضیاء نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وہ صدر حسن کی حمایت کریں۔
![]() | |
| خالدہ ضیاء نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نئے صدر کی حمایت کریں |
حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت عوامی لیگ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایم کے حسن کو صدر بنایا گیا تو وہ سڑکوں، ٹرینوں اور ہوائی اڈوں پر مظاہرے کر کے ملک میں آمدورفت کا نظام درہم برہم کر دیں گے۔
خالدہ ضیاء نے اپنی حکومت کی مدت پوری ہونے سے پہلے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ آئین کا احترام کریں گی۔
![]() | |
| شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ نئے صدر کی نگرانی میں انتخابات کی حامی نہیں ہے |
ابھی تک دارالحکومت ڈھاکہ میں ہی سو سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
بنگلہ دیش کی سیاست شیخ حسینہ کی عوامی لیگ اور خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے گرد گھومتی ہے اور دونوں سیاسی رہنماؤں میں بڑے عرصے سے ذاتی رنجش چلی آ رہی ہے۔ ان دونوں رہنماؤں نے انیس سو اکیانوے سے لے کر اب تک مختلف ادوار میں اقتدار سنبھالا ہے لیکن سالوں سے آپس میں بات چیت نہیں کی ہے۔