Friday, 27 October, 2006, 22:40 GMT 03:40 PST
امریکی صدر جارج بش نے ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی کمیونٹی پر زور دیا ہے کو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی اپنی کوششیں بڑھائے۔ انہوں نے یہ بات ان اطلاعات کے چند ہی گھنٹے بعد کہی کہ ایران نے اپنی یورینیم کی افزودگی کا پروگرام مزید بڑھا لیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین نیو یارک میں ایک اجلاس میں یہ ایران پر پابندیوں کے بارے میں غور کر رہے ہیں کیونکہ یورینیم کی افزودگی روکنے کی ایران کو دی گئی ڈیڈلائن گزر گئی ہے اور اس نے اپنا جوہری پروگرام بند نہیں کیا ہے۔
ایران تنہا رہ جائے گا |
صدر جارج بش نے کہا: ’اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں بین الاقوامی برادری کے ساتھ اپنی کوششیں دوگنا کرنا ہوں گی تاکہ ایران کو یہ بات سمجھائی جا سکے کہ اگر اس نے اپنا جوہری پروگرام جاری رکھا تو وہ دنیا میں تنہا رہ جائے گا‘۔
![]() | |
| ایرانی صدر امریکی دباؤ میں نہیں آ رہے |
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کو جولائی میں اپنا یورینیم افزدوگی کا پروگرام ختم کرنے کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دی تھی جس پر ایران نے عمل نہیں کیا۔ اب سلامتی کونسل میں اس قرار داد پر کام جاری ہے جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اساسوں کو منجمد کر دیا جائے گا۔ تاہم چین اور روس دونوں ہی ایران پر پابندیاں عائد کرنے پر رضامند نہیں۔