Thursday, 26 October, 2006, 03:29 GMT 08:29 PST
جنوبی افغانستان میں پھر لڑائی شروع ہو گئی ہے اور نیٹو کی افواج نے پچاس کے قریب طالبان باغیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ متعدد شہریوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
نیٹو کے ترجمان نے تسلیم کیا کہ جنوبی صوبے قندھار میں تین جگہوں پر جھڑپیں ہوئیں۔
تاہم طالبان کے کئی سینیئر کمانڈروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ برطانوی افواج سے کئی محاذوں پر جنگ جیت رہے ہیں۔
ایک خصوصی انٹرویو میں طالبان کمانڈر نے بتایا کہ اب خود کش حملوں میں بھی اضافہ ہو گا اور ایک ہی وقت میں چھ چھ لوگ بھی خود کش حملے میں حصہ لے سکتے ہیں۔
اجتماعی خود کش حملے |
انہوں نے کہا کہ طالبان کے پاس اب نئی گاڑیاں اور دیگر مواصلاتی آلات آ گئے ہیں۔
ہلمند میں حاجی ملا وحید اللہ نے نامہ نگار کو بتایا کہ اب نیٹو افواج کو زیادہ حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا: ’ابھی تک آپ نے انفرادی حملے دیکھے ہیں۔ لیکن مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ آپ چھ چھ لوگوں کو ایک ساتھ حملہ کرتا دیکھیں‘۔
’لاتعداد لوگوں نے خود کش حملوں کے لیے اپنے آپ کو رجسٹر کروایا ہے‘۔
افغانستان میں اس سال کے دوران تین ہزار سے زیادہ جانیں ضائع ہوئی ہیں اور 2001 کے بعد سے یہ سب سے زیادہ خونی سال گزرا ہے۔