Wednesday, 25 October, 2006, 11:55 GMT 16:55 PST
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے ملک میں موجود مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف سرکاری افواج کو اسلحہ اٹھانے کا اختیار ہے۔
عراق میں مسلح گروہوں کو فرقہ وارانہ خونریزی کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے۔ نوری المالکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی حکومت ہر ایسے گروہ کے خلاف کاروائی کرے گی جو ریاستی طاقت کو چیلنج کرے گا یا قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا۔
عراق میں امریکہ کے سفیر زلمے خلیلزاد نے منگل کے روز بیان دیا تھا کہ عراقی قیادت نے سیاسی اور سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے ایک لائحہ عمل پر اتفاق رائے کر لیا ہے، جس میں مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔
انہوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا تھا کہ طے پانے والے لائحہ عمل پر آئندہ بارہ ماہ کے دوران قابل ذکر پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوری المالکی کو جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ان کی مخلوط حکومت میں شیعہ جماعتیں بھی شامل ہیں، جن کے اپنے طاقتور مسلح گروہ ہیں۔
اس کاروائی میں عراقی فورسز کو امریکی فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی۔
امریکی حکام کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر سٹی میں کی گئی کاروائی کا مقصد ایک مسلح گروہ کے کمانڈر کو گرفتار کرنا تھا جو کہ مشرقی بغداد میں ہونے والے خود کش حملوں کے ’ماسٹر مائنڈ‘ خیال کیئے جاتے ہیں۔ ’آپریشن کے دوران عراقی فورسز مشکل سے دوچار ہوئیں تو انہوں نے امریکی فضائیہ کو مدد کے لیئے طلب کیا‘۔
صدر سٹی کا علاقہ شعلہ بیان شیعہ رہنما مقتدہ الصدر اور ان کے حامی مسلح گروہ ’مہدی ملیشیا‘ کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ عراق کے سنی رہنما اور امریکی اہلکار مہدی ملیشیا کو بغداد میں ہونے والی فرقہ وارانہ ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔