Wednesday, 25 October, 2006, 13:35 GMT 18:35 PST
افغانستان میں انسانی کھوپڑی کے ساتھ جرمن فوجیوں کی چند تصاویر پر شدید تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ جرمنی میں ان تصاویر کی اشاعت کے بعد سے کئی حلقوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔
یہ تصاویر روزنامہ ’بلڈ‘ میں شائع کی گئی ہیں۔ اخبار کے مطابق یہ تصاویر افغانستان میں 2003 میں لی گئی تھیں۔
ایک تصویر میں ایک جرمن فوجی نے اپنی برہنہ ٹانگوں کے ساتھ انسانی کھوپڑی اٹھا رکھی ہے جبکہ ایک اور تصویر میں فوجیوں نے کھوپڑی کو اپنی جینز پر رکھا ہوا ہے۔
جرمنی کے وزیر دفاع فرانز جوزف جونگ نے ان تصاویر پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی حرکات کرنے والوں کے لیئے جرمن فوج میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
فوج کے سربراہ جنرل وولف گینگ شنائڈر ہین نے کہا ہے کہ تصاویر میں موجود دو افراد کی شناخت کرلی گئی ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ان کے مطابق ان دو میں سے ایک پہلے ہی فوج چھوڑ چکا ہے جبکہ دوسرا اب بھی فوج میں شامل ہے۔
![]() | |
| بدھ کو جرمن ٹی وی نے اس خبر کو بڑی کوریج دی |
بدھ کو جرمن ٹی وی نے اس خبر کو بڑی کوریج دی۔
جرمن فوج کی نمائندگی کرنے والی ایک تنظیم کے سربراہ برنارڈ گارتز نے کہا ہے ’ہمیں معلوم کرنا ہوگا کہ اچھی تربیت اور اچھی نگرانی کے باوجود ایسی حرکات کیسے سرزد ہوئیں‘۔
اخبار نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اسے یہ تصاویر کہاں سے ملیں اور نہ ہی ان کے مصدقہ ہونے کا کوئی ثبوت دیا گیا ہے۔
افغانستان میں جرمنی کے 2800 فوجی ہیں جو دیگر فوجیوں کی نسبت قدرے پرسکون مقامات پر تعینات ہیں۔
پچھلے ماہ جرمنی کے ایوان زیریں نے افغانستان کی بگڑتی سکیورٹی صورتحال کے باعث وہاں جرمن فوج کی موجودگی اکتوبر تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔