Tuesday, 24 October, 2006, 09:22 GMT 14:22 PST
اطلاعات کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں طالبان کے حامی مزاحمت کاروں نے ٹیکسوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔
اس کا اعلان اتوار کو میران شاہ میں جاری ہونے والے پمفلٹوں کے ذریعے کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ستمبر میں مقامی مزاحمت کاروں اور حکومت کے درمیان متنازعہ امن معاہدے پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔
افغانستان میں حکومتی اور نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں موجود طالبان کی جانب سے سر حد پار حملے کیے جاتے ہیں۔
پاکستان کی حکومت کے مطابق اس معاہدے کی روسے مقامی قبائلی القاعدہ کے مفرور کارکنوں کو پناہ اور انہیں سرحد پار کرنے سے بھی روکیں گے۔
اتوار کو طالبان کی حامی مقامی کونسل نے، جو قبائلی عمائدین کی جانب سے بات کرنے کا دعوی کرتی ہے، کاروباروں اور ٹرکوں کی مختلف اقسام پر ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے۔
عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹیکسوں کی وصولی کا کام درحقیقت عیدالفطر کے بعد سے شروع کردیا جائے گا۔ پمفلٹ میں دی جانے والی مختلف سزاؤں کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں۔ اس کے مطابق اگر کوئی شخص قتل کرنے کا مرتکب پایا گیا تو اسے مار دیا جائے گا۔ چوری کرنے والے کو پانچ لاکھ روپیہ بطور جرمانہ اور دو ماہ کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
شمالی وزیرستان کے علاقے سے افغانستان کی سرحد ملتی ہے اور اس علاقے میں طالبان حامی افراد اور فوج کے درمیان دو معاہدے ہو چکے ہیں ایک اپریل 2004 اور دوسرا فروری 2005۔ اس کے بعد سے شمالی وزیرستان میں طالبان حامی مقامی گروہوں نے بشمول جرمانے لگانے کے انصاف کی فراہمی کا کام خود سنبھال لیا ہے۔
![]() | |
| ستمبر میں حکومت اور مزاحمت کاروں کے درمیان مزاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پاگیا تھا |
کچھ مشاہدہ کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں بھی حالات کہیں جنوبی وزیرستان کی طرح سے نہ ہو جائیں جہاں طالبان حامی افراد نے افغانستان سے فرار ہو کر آنے والے مزاحمت کاروں کو چھپنے کے لیئے پناہ گاہیں فراہم کی ہوئی تھیں۔
تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ امن معاہدہ مزاحمت کاروں کو عام قبائلیوں سے الگ کرنے کا ایک بہترین ہتھیار ہے اور اس کے ذریعے اس علاقے میں غیر ملکی مزاحمت کار بھی تنہا ہو جائیں گے۔