Tuesday, 24 October, 2006, 11:54 GMT 16:54 PST
ایران کی وزارت خارجہ نے خلیجِ فارس میں امریکہ کی قیادت میں عنقریب شروع ہونے والی بحری مشقوں کو ’اشتعال انگیز‘ اور ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کی طرف سے جاری کی گئی ایک خبر کے مطابق وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی بحری مشقیں خطے کے استحکام اور حفاظت کے لیئے خطرہ ہیں۔
’امریکی رجعت پسند جنگ کی سی صورتحال پیدا کر کے اپنے ملک میں عنقریب ہونے والے درمیانی مدت کے انتخابات میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں‘۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ خلیج فارس میں فرانس، برطانیہ، کویت اور بحرین کے ساتھ مل کر جنگی بحری مشقیں شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیئے اقوام متحدہ کے ذریعے اس پر پابندیاں لگوانے کی کوششوں میں بھی مصروف ہے۔
اسرائیل کے ساتھ حالیہ تصادم میں لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزبِ اللہ کو فاتح قرار دیتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا ’اس سے مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے‘۔
انہوں نے خاص طور پر فلسطینی تنظیموں کے درمیان اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا ’دشمن انہیں منقسم کرنا چاہتے ہیں‘۔
تبصرہ نگاروں کے مطابق ایران کے روحانی رہنماء فلسطینی تنظیموں فتح اور حماس کے درمیان جاری گروہی تصادم کے حوالے سے ناخوش ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کا خیال ہے کہ ان تنظیموں کے درمیان اختلافات سے فلسطینی جدوجہد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔