Monday, 23 October, 2006, 01:56 GMT 06:56 PST
افغانستان کے دو کمانڈروں کے درمیان شدید لڑائی میں 32 جنگجو اور شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایک افغان کمانڈر نے ایک ایسے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی جو دوسرے کمانڈر کےزیر انتظام تھا۔
بی بی بسی کے نامہ نگار کفایت اللہ نے بتایا کہ کمانڈر امان اللہ خان ضلع شنگن میں ہوئے تو کمانڈر عبداصبور کے بیٹے نے ان پر حملہ کر دیا۔ کمانڈر عبدالصبور کو ایک ہفتے قبل ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اس کے نتیجے میں شدید جھڑپ ہوئی جس میں تقریباً بتیس افراد ہلاک ہوئے جن میں جنگجو بھی شامل ہیں اور عام افغان شہری بھی۔
کفایت اللہ کے مطابق افغان پولیس کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ میں چالیس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
چالیس افراد زخمی |
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اسلحہ واپس لینے کی مہم اس لیے کامیاب نہیں ہو سکی کہ کمانڈر یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ اسلحہ واپس کر دیں گے تو طالبان حملے کے خلاف اپنا دفاع کیسے کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ طالبان ایسی صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایسے مواقع سے لوگوں کو یہ احساس بھی دلاتے ہیں کے ان کے زمانے میں اس طرح کی باہمی لڑائیاں نہیں ہوتی تھیں۔