Sunday, 22 October, 2006, 02:45 GMT 07:45 PST
صدر بش نے ایک بار پھر کہا ہے کہ مشن کی تکمیل کے بغیر عراق سے امریکی فوجیوں کو عراق سے واپس نہیں بلائیں گے۔
لیکن اس دوران امریکی دفترِ خارجہ کے ایک سرکردہ اہلکار نے کہا ہے کہ امریکہ نے عراق کے حالات سے نمٹنے میں رعونت اور حماقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
عرب ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں البرٹو فرنانڈس نے کہا ہے کہ اس کے باوجود کہ واشنگٹن نے اپنی طرف سے ممکن ترین بہتر کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود تنقید کی گنجائش ہے۔
خود ان کے الفاظ میں ’تاریخ فیصلہ کرے گی کہ عراق میں امریکہ کی کارکردگی کیسی رہی لیکن خدا گواہ ہے کہ ہم نے اپنی طرف سے حتیٰ المقدور کوشش کی کہ اچھے کام کیے جائیں۔ تاہم اس کے باوجود تنقید اور اعتراض کی گنجائش رہتی ہے کیونکہ اس میں شک نہیں کہ عراق میں امریکہ نے رعونت اور حماقت سے کام لیا‘۔
ادھر رائے عامہ کے جائزوں سے عندیہ ملتا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو سکتی ہے لیکن صدر بش نے کہا کہ ’ہم یہ کام ہر گز نہیں کریں گے کہ میدان جنگ سے فوجیں مشن کی تکمیل سے پہلے بلا لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں کچھ لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم عراق سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو زیادہ محفوظ ہو جائیں گے۔
رعونت اور حماقت سے کام لیا |
انہوں نے کہا ہے کہ عراق سے پیچھے ہٹنے کے معنی یہ بھی ہوں گے کہ ہم ان لوگوں کی عزت کو بٹہ لگا رہے ہیں جنہوں نے عراق میں جانیں دی ہیں۔ جس کے یہ معنی بھی ہیں کہ ان کی قربانی بے کار گئی۔
تاہم اس دوران نیو یارک ٹائم نے کہا ہے کہ پینٹاگون ایسی منصوبہ بندی پر غور کر رہا ہے جس کے نتیجے میں تشدد بھی کم ہو جائے اور امرییک افواج کا کردار بھی۔ لیکن وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ نیو یارک ٹائمز کی خبر درست نہیں ہے۔
صدر بش سنیچر کو فوج کے سینئر جرنیلوں سے وڈیو کانفرنس کی اور اپنے ہفتہ وار خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ عراق کے لیے امریکہ کی فوجی حکمتِ عملی اور پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کانفرنس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ عراق میں حالیہ دنوں میں تشدد کی جو لہر آئی ہے اسے کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔ اس بات پر بھی غور ہوگا کہ آیا عراق میں فوجی حکمتِ عملی بدلی جائے یا نہیں۔