Saturday, 21 October, 2006, 15:16 GMT 20:16 PST
پیرس میں چارلس ڈیگال ایئرپورٹ سٹاف کے چار مسلمان کارکنوں کو ایئر پورٹ پر کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ چاروں یہاں پرسامان چیک کرنے پر متعین تھے۔ اب انہوں نے اس فیصلے کے خلاف دعویً دائرکیا ہے۔
ان چاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے انھیں مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کام سے ہٹایا ہے اور اس سے حکومت کا تعصب سامنے آیا ہے۔ جبکہ ایک مقامی حکومتی اہلکار نے ان کارکنوں کے دعوے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
ان چاروں کارکنوں کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے علاوہ بھی درجنوں مسلمان کارکنوں کا اچانک سکیورٹی پاس منقطع کر دیا گیا ہے جس سے وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔
ان چار نکالے جانے والے کارکنوں کا تعلق شمالی افریقہ سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگست میں ان کی ملازمت سے متعلق انھیں انٹرویو کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ اور پھر کچھ ہی دن بعد انھیں مطلع کیا گیا کہ ان کے سکیورٹی پاس جام کر دیے گئے ہیں۔ اس پاس کے ذریعے ہی وہ رن وے کے قریب جا سکتے تھے۔
ان کارکنوں کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ انہیں کہا گیا ہے کہ ان چاروں کے رویے سے لگتا ہے کہ یہ کبھی بھی ایئرپورٹ سکیورٹی کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے اس فیصلے کے خلاف ان سامان چیکروں کی طرف سے ان کے وکلاء نے ایک شکایت درج کرائی ہے کہ انہیں مذہبی تعصب پسندی کی وجہ سے ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے۔
تاہم مقامی حکومتی دفتر کے سربراہ جیکس لیبروٹ کے مطابق اس فیصلے کا تعصب پسندی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جیکس لیبروٹ کا کہنا ہے کہ ’ ہم سمجھتے ہیں کہ جو بھی چھٹیوں پر پاکستان جاتا ہے وہ کئی طرح سے مشکوک ہو جاتا ہے‘۔
چار ماہ پہلے دائیں بازو کے ایک انتہا پسند سیاستدان کی شائع ہونے والی ایک کتاب میں فرانس کی ایئرپورٹ سکیورٹی پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ فلپ ڈی ویلرز کی اس کتاب میں دعویً کیا گیا ہے کہ چارلس ڈیگال ایئرپورٹ پر اسلامی انتہا پسند کام کرتے ہیں اور اس ایئرپورٹ کو دہشت گردی کا خطرہ ہے۔