http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 19 October, 2006, 21:39 GMT 02:39 PST

امریکی فوج کا سکیورٹی پلان ناکام

امریکی فوج نے کہا ہے کہ بغداد میں تشدد کے خاتمے کے لئے سکیورٹی کا جو منصوبہ تیار کیا گیا تھا وہ توقع کے برعکس ناکام ہوگیا ہے اور اب اس پر نظرِ ثانی کی جا رہی ہے۔

فوجی ترجمان میجر جنرل ولیئم کالڈویل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ گزشتہ ماہ کے خاتمے کے بعد سے بغداد میں تشدد کے واقعات میں ’بائیس فیصد حوصلہ شکن‘ اضافہ ہوا ہے۔

ان کا بیان ایسے وقت آیا ہے جب جمعرات کو عراق میں تشدد کے واقعات میں بم دھماکوں سے اکتالیس افراد ہلاک ہوگئے۔

صدر جارج بش نے کہا ہے کہ تشدد میں اضافے کے باعث امریکی فوج اور عوام کے حالات کا موازنہ ویت نام کی صورتِ حال سے کیا جا سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ عراقی اور امریکی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کا مطلب یہ ہے کہ عراق میں امریکی امن کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔

بغداد میں سکیورٹی کا آپریشن جون میں شروع ہوا تھا جس میں عراق اور امریکی فوج نے ملک کر تشدد کو روکنا تھا۔ اس مقصد کے لئے بغداد میں ہزاروں کی تعداد میں اضافی فوجی تعینات کیئے گئے تھے۔

اس کارروائی کا مقصد پہلے بغداد اور بعد میں پورے ملک میں عراقی حکومت کی اتھارٹی کو قائم کرنا تھا تاکہ آہستہ آہستہ امریکی فوج کا انخلاء ممکن ہو سکے۔

تاہم جنرل کالڈویل کا کہنا تھا کہ عراقی اور امریکی فوج پر حملوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ’اس آپریشن سے ہماری توقعات پوری نہیں ہو سکیں ہیں۔

انہوں نے کہ اب تک 73 امریکی فوج صرف اکتوبر میں ہلاک ہوئے ہیں اور لگتا ہے کہ دو برس میں امریکی فوج کے لئے اکتوبر کا مہینہ بدترین ثابت ہو رہا ہے۔

عراق میں جہاں جہاں سے امریکی فوج کو ہٹایا گیا ہے وہاں بھی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ مثلاً موصل میں صرف جمعرات کو چھ خود کش بم حملے ہوئے ہیں۔