Thursday, 19 October, 2006, 11:17 GMT 16:17 PST
برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے حکام نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں القاعدہ از سر نو منظم ہو چکی ہے اور اس کا بڑا نشانہ برطانیہ ہے۔
ان حکام کے مطابق القاعدہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہے اور پاکستان میں اس کو ختم کرنے کی چار سالہ کوشش کے باوجود یہ وہاں اپنی تنظیم کو بحال کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ اپنے روایتی تعلقات کی وجہ سے القاعدہ کے لیئے آسان نشانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ سے ہر سال ہزاروں افراد پاکستان جاتے ہیں۔
انسداد دہشت گردی کے حکام کے مطابق القاعدہ برطانیہ میں انہی خطوط پر کام کر رہی ہے جن پر آئی آر اے کرتی رہی ہے جس کے تحت ہر سیل انفرادی طور پر کام کرتا ہے اور ماسٹرمائنڈ مختلف سیل کنٹرول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کی برطانیہ اور پاکستان میں تربیت جاری ہے۔
بی بی سی کی داخلی امور کی نامہ نگار مارگیرٹ گلمور نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں کو اس بات پر تشویش ہے کہ ’القاعدہ تعلیمی اداروں اور کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ حکام مساجد کے بارے میں کم فکر مند ہیں۔
تاہم خفیہ ایجنسیوں کے ماہر کرسپن بلیک نے کہا برطانیہ میں القاعدہ کے حملے ناگزیر نہیں ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے برطانیہ میں سکیورٹی حکام کی آئی آر اے کے خلاف کامیاب کارروائیوں کا حوالہ دیا۔