Wednesday, 18 October, 2006, 21:10 GMT 02:10 PST
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اچانک اضافے اور ایک دن میں گیارہ فوجیوں کے مارے جانے کے باوجود صدر بش اپنی عراق پالیسی تبدیل نہیں کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی طرف سے یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب بش انتظامیہ پر شدید دباؤ ہے کہ وہ عراق کی حکمتِ عملی کی ترتیبِ نو کرے۔ رائے عامہ کے مختلف جائزوں کے مطابق بش انتظامیہ کی مقبولیت میں توقع سے زیادہ کمی آئی ہے جس کا اہم سبب عراق جنگ ہے۔
گزشتہ دو برس کے دوران پہلی مرتبہ عراق میں مزاحمت کاروں سے برسرِ پیکار امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے اور صرف اکتوبر کے اٹھارہ دنوں میں ستر امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔ گیارہ فوجیوں کی ایک دن میں ہلاکت صدر بش کے لئے کافی پریشان کن ہے۔
ان ہلاکتوں کے باعث بش انتظامیہ پر ایک بار پھر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ عراق میں مستقبل کی امریکی حکمتِ عملی ازسرِ نو ترتیب دے۔ یہ مطالبات ایسے وقت کیے جا رہے ہیں جب امریکہ میں تین ہفتے بعد وسطی مدت کے انتخابات ہونے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ کی عراق کی حکمتِ عملی کی وجہ سے ڈیموکریٹ پارٹی کو یقین ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر کانگریس میں کنٹرول حاصل کر لے گی۔
صدر بش کے جہاز پر موجود نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ان کے ترجمان ٹونی سنو نے کہا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن پھر بھی صدر بش کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔
ٹونی سنو نے کہا: ’صدر بش کو امریکی جانوں کے زیاں پر گہرا دکھ ہے مگر ہماری حکمتِ عملی یہی ہے کہ ہمیں جیتنا ہے اور ہمیں اس فتح کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘
اس سوال پر کہ آیا امریکہ عراق میں صورتِ حال کی بہتری کے لئے جیمز بیکر کے اس عندیے کا حامی ہے کہ ایران اور عراق دونوں سے مدد لی جائے، ٹونی سنو کا کہنا تھا امریکہ عراق میں دہشت گردی روکنے کی کوششوں میں ایران یا شام کی مدد کا خیر مقدم کرے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود ان ممالک کے لئے امریکہ کے سفارتی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
![]() | |
| دو ہزار تین میں عراق پر حملے کے بعد پہلی بار امریکی عوام اتنے مایوس ہوئے ہیں کہ وہ فوراً عراق پالیسی میں تبدیلی چاہتے ہیں |
دو ہزار تین سے اب تک عراق میں تقریبا 2800 امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں اور لوگوں میں جنگ کے تناظر میں جتنی مایوسی اب ہے اتنی پہلے نہیں تھی۔
رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق دو تہائی امریکی جنگ کے خلاف ہو گئے ہیں اور خاص طور پر ان لوگوں نے صدر بش کی امریکی پالیسی کو نامنظور کر دیا ہے۔