Tuesday, 17 October, 2006, 16:31 GMT 21:31 PST
روی گیلت کا کہنا ہے کہ ملین پاؤنڈ کمانا کوئی مشکل کام نہیں۔ انہوں نے ایک نائٹ کلب میں کام کرکے 18 سال کی عمر ہی میں اپنی زندگی کے پہلے ایک ملین پاؤنڈ کما لیئے تھے۔
روی کے لیئے کاروبار کی اہمیت ہمیشہ تعلیم سے زیاد ہ رہی، یہی وجہ تھی کہ کم عمری میں ہی انہوں نے سکول چھوڑ یا تھا لیکن انہیں اس کا کوئی غم نہیں۔
23 سالہ روی برطانیہ کے ان کم عمر ’کروڑ پتی‘ افراد میں سے ہیں جنہوں نے خود محنت کرکے پیسہ کمایا ہے۔
نائٹ کلب پروموٹر ہونے کے ساتھ ساتھ روی مختلف کمپنیوں کو انٹرنیٹ آفس سروس بھی فراہم کرتے ہیں۔
روی کہتے ہیں کہ پیسہ کی اہمیت ان لوگوں کی نظر میں زیاہ ہوتی ہے جن کے پاس یہ نہ ہو۔ ان کا خیال ہے کہ دیگر نوجوان ان کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے ’اگر آپ مستقل مزاجی اور دھیان سے کام لیں تو کاروبار سے ملین پاؤنڈ کمانا کچھ مشکل نہیں‘۔
سرے یونیورسٹی کی ایک ماہر سپندر دھلیوال کا کہنا ہے کہ آج کے کاروباری نوجوانوں کا مزاج سے یہاں آنے والے پہلی نسل کے جنوبی ایشیائی افراد سے بالکل مختلف ہے۔ ’یہ نوجوان اپنی برادریوں سے باہر روابط قائم کرنے میں یقین رکھتےہیں اور مشورے کے لیئے اپنے خاندان یا دوستوں سے باہر کے افراد پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں اور ان کے کام کرنے کا طریقہ کار بھی بالکل مختلف ہے‘۔
وہ کہتی ہیں ’یہ نوجوان زیادہ محنت کرنے پر مہارت اور عقل کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں اور وقت کی اہمیت سے واقف ہیں‘۔
طرز زندگی کا فرق |
روی اور نتاشا کا کہنا ہے کہ محنت کا پھل ضرور ملتا ہے۔
ان امیر نوجوانوں کے رہن سہن سے بھی ان کی امارت کی جھلک ملتی ہے۔ نتاشا کو ڈیزائنر کپڑوں کا بے حد شوق ہے جبکہ روی لندن فیلڈز میں پانچ لاکھ پاؤنڈ مالیت کے گھر میں رہتےہیں۔
دھلیوال کہتی ہیں کہ ان نوجوانوں سے پہلے کی نسل اس طرح کے طرز زندگی پر یقین نہیں رکھتی تھی۔ ان کے کاروبار کا مقصد محض گزارہ کرنا ہوتا تھا۔
نتاشا کہتی ہیں کہ ان سے پہلے کی نسلوں نے بڑی قربانیاں دیں لیکن وہ کبھی بھی اپنے لباس پر زیادہ خرچ نہیں کرتے تھی ’بلکہ وہ تو کبھی ٹیکسی بھی نہیں استعمال کرتے تھے‘۔
دھلیوال کا کہنا ہے کہ نئی نسل کے نوجوان اپنی دولت کی نمائش پر یقین رکھتے ہیں۔ ’اس ثقافت کا سب سے بدترین پہلو یہی ہے کہ یہ لوگ دوسروں کو دکھانا چاہتے ہیں‘۔