Wednesday, 18 October, 2006, 02:12 GMT 07:12 PST
صدر جارج بش نے دہشت گردی کے الزامات میں ملوث یا مشتبہ غیر ملکیوں کی تفتیش اور ان پر مقدمہ چلانے کے معیار قائم کرنے والے بل پر دستخط کر دیئے ہیں۔ یوں اس بل کو اب قانون کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔
اس قانون کے تحت مدعا الیہان کے حقوق کا تعین بھی ہو جاتا ہے لیکن وہ اپنی حراست کو بھر پور انداز میں چیلنج نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے حقوق کافی محدود ہیں۔
جون میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ وہ فوجی ٹرائیبونل جو گوانتانامو بے کے قیدیوں پر مقدمہ چلانے کے لئے قائم کیے گئے ہیں، بین الاقوامی اور امریکہ قانون کی خلاف وزری کرتے ہیں۔
ایک امریکہ ترجمان نے بتایا ہے کہ اس قانون کے عمل میں آ جانے کے بعد گوانتانامو کے مشتبہ قیدیوں پر مقدمات چلانے کی تیاری شروع کی جائیں گی۔
واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران صدر بش نے کہا کہ اس بل سے امریکہ زندگیاں بچیں گی۔
صدر بش کا کہنا تھا کہ سی آئی اے نے مشتبہ افراد سے تفتیش کا جو طریقہ اختیار کیا تھا وہ بہت قابلِ قدر تھا اور نئے قانون میں اس طریقۂ تفتیش کا لحاظ رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملٹری کمیشن ایکٹ کے تحت سی آئی اے کو یہ اجازت ہوگی کہ دہشت گردوں سے تفتیش کریں اور زندگیاں بچائیں۔ اس قانون کے تحت خصوصی ٹرائبیونل قائم کیئے جائیں گے جو مدعا الیہان کو اپنے دفاع کا منصفانہ حق بھی دیں گے۔
یہ فوجی کمیشن ملزمان کو بے قصور گردانتے ہوئے مقدمات کا آغاز کریں گے، مدعا الیہان کو اپنے لئے وکیل حاصل کرنے کا اختیار ہوگا اور وہ اپنے خلاف ہر قسم کی گواہی سن سکیں گے۔ صدر بش نے کہا کہ یہ کمیشن قانونی حیثیت کے حامل ہیں اور ضروری بھی ہیں۔
ان مقدمات میں ایک مشتبہ شخص خالد شیخ ہیں جنہیں گیارہ ستمبر کو امریکہ پر ہونے والے حملوں کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو کا کہنا تھا کہ نئے قانون کے تحت گوانتانامو میں قید افراد کے خلاف مقدمات کو شروع ہوتے ہوتے ایک دو ماہ لگ جائیں گے۔