Monday, 16 October, 2006, 08:06 GMT 13:06 PST
تیونس میں حکام نے حجاب کے پہننے کے خلاف ایک مہم شروع کر دی ہے۔
پولیس اب سنہ 1981 میں بنائے گئے اس قانون کو بہت گرم جوشی سے نافذ کررہی ہے جس کے تحت عوامی مقامات میں حجاب کے پہننے پر پابندی ہے۔
تیونس میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکام ملک کی خواتین کو ایک ایسے بنیادی حق سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ انہیں آئین کے تحت حاصل ہے۔
سنہ 1981 کی پابندی کے تحت خواتین کو سکولوں یا سرکاری دفاتر میں حجاب پہننے کی اجازت نہیں ہے لیکن حال میں پولیس نے سڑکوں پر محجبہ خواتین کو روک کر ان کے حجاب اتروا کر ان سے وعدے ناموں پر دستخط کرائے ہیں کہ وہ آئندہ یہ نہیں پہنیں گی۔
ایک خاتون نے بتایا ہے کہ ان کو اپنے بیٹے کے سکول میں داخل ہونے سے روکا گیا۔
تیونس کے صدر زین العابدین بن علی نے حجاب کو ایک ’مخصوص فرقے‘ کا لباس قرار دیا ہے جو بقول ان کے ’تیونس میں باہر سے لایا گیا ہے۔‘
صدر بن علی ملک میں ایسے علامات اور خیالات کو رائج ہونے سے روکنا چاہتے ہیں جن سے ممنوعہ مذہبی جماعتوں کی حمایت ظاہر ہو۔
انہوں نے نوّے کی دہائی میں اس وقت ملک کی مذہبی جماعتوں پر پابندی لگائی تھی جب پڑوس ملک الجزائر میں اسلامی جماعتوں اور حکومت کے خلاف لڑائی جاری تھی۔
کئی سرکاری افسروں کا کہنا ہے کہ ملک میں انتہا پسند عناصر حجاب اور ’اسلامی لباس‘ کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس پابندی سے لوگ نا خوش ہیں لیکن تیونس کے سیاسی ماحول میں وہ اس کا اظہار کرنے سے سے گھبراتے ہیں۔