Sunday, 15 October, 2006, 05:05 GMT 10:05 PST
جاپان اور جنوبی کوریا نے سلامتی کونسل کی طرف سے شمالی کوریا پر پاپندیاں عائد کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سنیچر کو ایٹمی دھماکے کی سزا دینے کے لیے شمالی کوریا پر پابندیاں نافذ کی تھیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ان پر نفاذ کیلیے طاقت استعمال نہیں کی جائیگی۔
جاپانی وزیر اعظم کے مطابق جاپان خود اپنی طرف سے بھی شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔
تاہم روس کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اپنی جوہری پروگرام سے متعلق چھ فریقی بات کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔
پابندیوں کے نفاذ کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی گئی اور شمالی کوریا سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک کر دے۔
ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کو کسی ایسے مواد تک رسائی حاصل نہیں ہو گی جو اسے اس کے جوہری یا میزائل پروگرام میں مدد دے سکے۔ ہیاں تک کہ شمالی کوریا کو روایتی ہتھیاروں کے حصول کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔
اس کے علاوہ شمالی کوریا سے آنے اور شمالی کوریا کو جکانے والے تمام سامان کی تلاشی لی جائے گی۔
تاہم روس اور چین کی مخالفت کی وجہ سے اس قرار دادا میں یہ بات شامل نہیں ہے کہ ان پابندیوں کو نافذ کرنے کے لیے ظاقت کا استعمال کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود پیانگ یانگ کو جوہری پروگرام کے بارے میں ایک سخت پیغام ملے گا۔
شمالی کوریا نے نے ان اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ انہیں امریکہ کی جانب اعلانِ جنگ کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش سمجھے گا۔
اس سے پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے بارے میں مفاہمت ہو گئی ہے اور پابندیوں کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی جائے گی۔
دو روز قبل امریکی سفارتکاروں نے اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں پر قرار داد کا مسودہ تقسیم کیا تھا۔
یہ پابندیاں سوموار کو شمالی کوریا کے پہلے ایٹمی تجربہ کے جواب میں لگائی گئی ہیں۔
اس وقت اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان بولٹن نے کہا تھا کہ مسودہ جمعرات کو پیش کیا جا رہا ہے، اس پر ووٹنگ جمعہ کو ہوگی اور یہ سنیچر تک منظوری ہو جائے گی۔
شمالی کوریا کہ ایک اہلکار نے جاپان سے کہا ہے کہ وہ جواب میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے رکن ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ شمالی کوریا کے خلاف پابندیاں عائد ہونی چاہئیں تاہم ان پابندیوں کی شدت پر ابھی اتفاق نہیں ہے۔
چین اور روس کے علاوہ جنوبی کوریا بھی ان پابندیوں کے حق میں نہیں تھے۔ اطلاعات کے مطابق چین کو شمالی کوریا آنے جانے والے کارگو جہازوں کے معائنہ کو لازمی بنانے پر بھی اعتراض ہے۔
چین اور جنوبی کوریا کو خدشہ ہے کہ ایسے معائنوں کے رد عمل میں شمالی کوریا فوجی کارروائی کر سکتا ہے جو کہ ان دونوں ممالک کے لیے خطرناک ہے۔