Sunday, 15 October, 2006, 06:59 GMT 11:59 PST
شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی اس قرار داد کو مسترد کر دیا ہے جس میں اس کے مبینہ ایٹمی تجربہ پر تنقید کرتے ہوئے اس پر فوجی اور معاشی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سنیچر کو منظور کی جانے والی قرارداد میں سکیورٹی کونسل کے تمام پندرہ ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
امریکی صدر جارج بش نے، جنہیں روس اور چین کی طرف سے اعتراضات کے بعد اپنے رویے میں نرمی پیدا کرنا پڑی ہے، قرارداد پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں تجویز کی گئی پابندیوں سے لگتا ہے کہ دنیا متحد ہے۔
قرارداد پر رائے شماری کے بعد چین نے کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا میں آنے اور وہاں سے باہر جانے والے سامان کی جانچ پڑتال کے حق میں نہیں ہے۔ یاد رہے کہ قرارداد کی ایک شق کے تحت اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ مال کی جانچ پڑتال کریں گے، بلکہ جاپان نے تو کہا ہے کہ وہ اپنے طور پر کچھ اضافی پابندیاں بھی لگا سکتا ہے۔
اس سے قبل جاپان اور جنوبی کوریا نے سلامتی کونسل کی طرف سے شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کرنے کا خیر مقدم کیا۔ جاپان کے وزیراعظم شنزو ابے نے کہا کہ دنیا نے شمالی کوریا کو ایک سخت پیغام دیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
![]() | |
| پابندیوں سے لگتا ہے کہ دنیا متحد ہے: جارج بش |
روس کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام سے متعلق چھ فریقی بات کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔
پابندیوں کے نفاذ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے شمالی کوریا سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک کر دے۔
ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کو کسی ایسے مواد تک رسائی حاصل نہیں ہو گی جو اسے اس کے جوہری یا میزائل پروگرام میں مدد دے سکے۔ یہاں تک کہ شمالی کوریا کو روایتی ہتھیاروں کے حصول کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔اس کے علاوہ شمالی کوریا سے آنے اور شمالی کوریا کو جانے والے تمام سامان کی تلاشی لی جائے گی۔
تاہم روس اور چین کی مخالفت کی وجہ سے اس قرار دادا میں یہ بات شامل نہیں ہے کہ ان پابندیوں کو نافذ کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود پیانگ یانگ کو جوہری پروگرام کے بارے میں ایک سخت پیغام ملے گا۔
اقوام متحدہ میں قرارداد کا مسودہ دو روز قبل امریکی سفارتکاروں نے تقسیم کیا تھا۔