http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 12 October, 2006, 03:38 GMT 08:38 PST

ترکی اور فرانس میں شدید اختلاف

فرانس کی پارلیمینٹ کے ایوان زیریں میں ایک ایسے قانون پر رائے شماری ہورہی ہے جس کی منظوری کے بعد ہر اس شخص کو قید کی سزا دی جا سکے گی جو پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں آرمینیائی عیسائیوں کے قتل عام کے واقعے سے انکار کرے گا۔

اس متنازعہ بل پر ترکی نے پہلے ہی شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ترک وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ اگر فرانس ترکی کے اندرونی معاملات میں ٹانگ اڑاتا رہا تو دونوں ملکوں کے تعلقات پر بہت برا اثر پڑ ے گا۔

فرانس کے ایوان زیریں سے منظوری کے بعد یہ بل ایوان بالا میں منظوری کے لیئے پیش کیا جائیگا۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس بل پر بحث سے ترکی کی یورپی یونین میں رکنیت کا معاملہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

مسودۂ قانون کے حامی کہتے ہیں کہ یہ بِل ترکی کے خلاف نہیں ہے بلکہ ترک تاریخ کا ایک واضح منظر پیش کرتا ہے۔ اعتراض کرنے والوں کا کہنا کہ یہ ترکی کے معاملات میں خواہ مخواہ کی مداخلت ہے اور تاریخِ سلطنت عثمانیہ کی نادانوں جیسی تشریح ہے۔

اگر فرانس کی پارلیمنٹ میں یہ مسودۂ قانون منظور کرلیا گیا تو ہر وہ شخص مجرم قرار پائے گا جو اس بات سے انکار کرے کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران پندرہ لاکھ آرمینیائی باشندوں کی نسل کُشی ہوئی تھی۔اور ایسے شخص پر جرمانہ بھی کیا جاسکے گا اور قید کی سزا بھی دی جاسکے گی۔

ترکی اس بات سے انکار کرتا رہا ہے کہ نسل کُشی کا کوئی واقعہ ہوا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ فرقہ وارانہ تصادم کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد میں آرمینیائی بھی اور مسلم ترک باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے۔

فرانس کا شمار ترکی کے حامیوں میں نہیں کیا جاسکتا۔ صدر شیراک نے حال میں ہی کہا تھا کہ ترکی کو یورپی یونین میں شامل کرنے کی ایک شرط یہ لگا دی جائے کہ وہ آرمینیائی باشندوں کی نسل کُشی کو تسلیم کرے۔ اب صدارتی انتخابات میں صرف چھ مہینے باقی ہیں اور فرانس میں ترکی کا معاملہ انتخابات کا موضوع بنتا جارہا ہے۔ ایک تو یوں کہ وہاں چار لاکھ کے قریب آرمینیائی بسے ہوئے ہیں اور دوسرے فرانسیسیوں کی اکثریت اس بات کی شدید مخالف ہے کہ ترکی کو یورپی یونین کا رکن بنایا جائے۔

ان حالات میں سیاست دانوں کو بخوبی معلوم ہے کہ ترکی کی مخالفت انہیں ووٹ دلوانے کی ضمانت ہے۔