http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 08 October, 2006, 12:42 GMT 17:42 PST

روجر ہارڈی
بی بی سی نیوز، سعودی عرب

سعودی عرب: تبدیلی کی سست رفتار

دولت سے مالامال سعودی عرب دنیا کا سب سےزیادہ تیل بر آمد کرنے والا ملک ہے اس کے باوجود یہاں کی نئی نسل کی ایک بڑی آبادی بے روزگار ہے۔

رات کے گیارہ بجے ہیں۔سعودی عرب کے دوسرے بڑے شہرجدہ کے کورنیک روڈ کا نظارہ کچھ یوں ہے کہ لوگ سمندر کے ساحلی علاقے میں تفریح کو نکلے ہوئے ہیں۔ بچے کھیل رہے ہیں اور بڑے، سمندر کی ساحلپر گاڑیاں دوڑا رہے ہیں۔

رمضان کے اس مبارک مہینے میں لوگ کافی خوش ہیں۔ یہ سعودی عرب کا قومی دن بھی ہے۔ نوجوان عرب کا سبز جھنڈا ہاتھوں میں لیے جھوم رہے ہیں لیکن مجھے اس بات کی جانکاری اپنے ایک دوست سے ملی کہ ان جھومتے گاتے نوجوانوں میں ایک بڑی تعداد بے روزگاروں کی تھی اور وطن پرستی کا جو جذبہ
ان کے اندر دکھائی دے رہا تھا وہ بالکل درست تھا اور ان کی بے روزگاری انکے لیئے شرمندگی کا سبب بلگ رہی تھی۔

یہ ایک پریشان کن سوال ہے کہ سعودی عرب جو دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے ایک ہے اس کے نوجوان بے روزگار اور پریشان حال کیوں ہیں؟

اس خوش حال ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کا تعلیمی نظام کچھ ایسا ہے جو یہاں کے نوجوانوں کو آج کی ضرورتوں کے مطابق تربیت یافتہ کرنے میں ناکام ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس ملک میں افرادی قوت کے طور پر باہر سے آنے والے لوگوں کا قبضہ ہے۔

کچھ لوگوں نے تو مجھے یہ بھی بتایا کہ فیمیلی ریستوراں میں اکیلے مردوں کے جانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ان رسٹورینٹ میں جانے کے لیئے ڈریس کوڈ بھی مقرر ہیں۔ آپ سخت گرمی کے موسم میں بھی مختصرکپڑوں میں وہاں نہیں جا سکتے۔

شخصی آزادی کے فقدان کے پیش نظر یہاں کے نوجوان سماجی پابندیوں کو چوری چھپے توڑنے کی کوشش کرتے ہیںاور وہ چوری چھپے ملنے کا راستہ نکال لیتے ہیں۔

ریاض کےبر خلاف جدہ میں شخصی آزادی قدرے زیادہ ہے ۔ ریاض میں ایک شخص نے مجھے بتایا کہ ایک بارپولیس نے اسے صرف اس لیئے گرفتار کر لیا تھا کہ اس نے نماز کے وقت اپنا ریستوراں بند نہیں کیا تھایا پھر اس نے فیملی سیکشن میں اکیلے لوگوں کے جانے پر لگی پابندی پر سختی سےعمل نہیں کیا تھا۔
ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ ایک بار اس نے ’گرلز آف ریاض‘ نامی ناول خریدا تھا جس پر کافی وایلاہو چکا تھا۔ اس ناول کی مصنفہ رجاالصناامریکہ میں رہ رہی ہیں۔

فی الحال یہاں 600 کے قریب بلاگز کی سائٹ ہیں ۔ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں استعمال ہونے والے یہ بلاگز مردوں کے علاوہ عورتیں بھی لکھتی ہیں۔

ایک ریستراں میں احمد نامی نوجوان ملا جو ’سعودی جنس‘ کے نام سے اپنا بلاگ چلاتا ہے۔ یہاں کے سماج میں انٹرنیٹ نے اظہار خیال کے مواقع بڑھائے ہیں۔کچھ عورتیں اپنا بلاگ ’مسٹک‘ کے نام سے لکھتی ہیں۔ جس میں وہ اپنے خیالات کا کافی حد تک کھل کر اظہار کرتی ہیں۔

لیکن سعودی سماج میں اب رفتہ رفتہ تبدیلی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پہلے جہاں ہوٹل کے فرنٹ ڈیسک اور ر استقبالیہ پر کام کرنے کے لیئےخواتین کو موقع نہیں دیا جتا تھا لیکن اب ان کو یہ کام کرنے کی اجازت ملنے لگی ہے لیکن تبدیلی کی یہ رفتار کافی سست ہے۔