Saturday, 07 October, 2006, 13:56 GMT 18:56 PST
جنوبی افریقہ کے نوبل انعام یافتہ سابق آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے خبردار کیا ہے کہ افریقہ میں بڑھتی ہوئی غربت سماجی بے چینی کو جنم دے سکتی ہے۔
اپنی پچھترویں سالگرہ کے موقع پر ڈیسمنڈ ٹوٹو نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’نسلی بنیاد کے نظام کے خاتمے پر جن لوگوں کو فوائد حاصل نہیں ہوئے وہ اب اپنا حصہ طلب کریں گے‘۔
یاد رہے کہ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے نسل پرستی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ٹوٹو پچھلے کئی ہفتوں سے جنوبی افریقہ میں بڑھتے خطرات سے خبردار کر رہے ہیں۔
ٹو ٹو کا کہنا ہے کہ افریقہ کو پر تشدد جرائم کی شکل میں نئے اخلاقی بحران کا سامنا ہے۔
بی بی سی کےنامہ نگار ایلن لٹل کو انٹرویو دیتے ہوئےڈیسمنڈ ٹوٹو نے کہا کہ’ لوگوں نے آزادی کو اجازت نامے کی حیثیت سے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ آزادی کی اپنی ذمہ داریاں اور فرائض ہیں‘۔
گزشتہ دنوں پیسوں کی وین پر ڈالے گئے ڈاکے کا ذکر کرتے ہوئے جس کے دوران ایک گارڈ کو زندہ جلا دیا گیا تھا، انھوں نے کہا کہ’ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ڈاکہ ڈالنے والوں کو ان کی رقم مل گئی تو پھر ایک شخص کو اتنی بے رحمی سے قتل کرنے کا کیا جواز ہے؟ آخر کوئی ایسی تبدیلی تو آئی ہے کہ ہم یہ سب کچھ کر رہے ہیں‘۔
گزشتہ ہفتے اپنی ایک تقریر میں ڈیسمنڈ ٹوٹو نےان بگڑے حالات کا الزام بارہ سال پہلےنسلی بنیاد پر بنائے گئے نظام کو ٹھہرایا ہے جس سہ جنوبی افریقہ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مگر ساتھ ہی انھوں نے اس کا ذمے دار سابق نائب صدر جیکب زوما کو بھی ٹھہرایا ہے جنھوں نے ان کے خیال میں صدر بننے کے لیئے غیر اخلاقی ہتھکنڈے استعمال کیئے ہیں۔
ڈیسمنڈ ٹوٹو نے یہ بھی کہا کہ’ امیروں اور غریبوں کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے اور بہت سے سیاہ فام بھی اب بہت امیر ہو گئے ہیں۔ ہمیں محتاط رہنا ہو گا کہ کہیں غریب لوگ یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ آزادی میں ان کا حصہ کہاں ہے؟ میں حیرت زدہ ہوں کہ ان لوگوں نے بےصبری اور غصہ نکالنے میں اتنا وقت کیوں لگایا ہے‘۔