Thursday, 05 October, 2006, 23:10 GMT 04:10 PST
سابق برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کی طرف سے مسلمان عورتوں کے چہرے کو نقاب سے چھپانے پر تبصرے پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
برطانیہ میں بسنے والی بہت سی مسلمان خواتین نے جیک اسٹرا کے تبصرے پر غم اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ کچھ برطانوی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اس پر اعتراض کیا ہے جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات پر بات کی جانی چاہیے۔
لیبر پارٹی کے چیئرمین ہیزل بلی آئیر نے جیک اسٹرا کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیک اسٹرا کا یہ کہنا درست ہے کہ اس طرح کے معاملات کوصرف یہ کہہ کر چھوڑ دینا کافی نہیں کہ یہ حساس نوعیت کہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حساس نوعیت کے معاملات پر احتیاط کے ساتھ بات ہونی چاہیے۔
ڈیوزبری کے علاقے سے لیبر پارٹی کے نمائندے شاہد ملک نے کہا کہ ہمیں کسی کی دیانت دارنہ رائے کو یکسر رد نہیں کر دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جس حلقے سے ان کا تعلق ہے وہاں انتہاہ پسند بی این پی کے سب سے زیادہ ووٹ ہیں اور وہاں مسلمان اور غیر مسلمانوں میں شدید تفریق ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں پائے جانے والے تنوع پر ہم خوش ہوتے ہیں لیکن اس طرح کے تضادات آسانی سے ہضم نہیں ہو سکتے۔
مسلم پبلک افیر کمیٹی کی حلیمہ حسین نے کہا ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ جیک اسٹرا کا تبصرہ مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیک اسٹرا کو اس طرح کے معاملات پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں یہ مسلمانوں کا معاملہ ہے۔
مشرقی لندن کے علاقے وال تھم فارسٹ کے علاقے کی ایک باپردہ نوجوان مسلمان خاتون سائمہ راجہ نے کہا کہ جیک اسٹرا کےاس تبصرے پر وہ تشویش کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ معلوم نہیں کہ اس طرح کی باتیں کہاں جا کر رکیں گی۔
حجاب کا دفاع کرنے والی تنظیم کی ایک رکن راجنارا اختر نے اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جیک اسٹرا کا تبصرے قابل تضہیک ہے۔
انہوں نے کہا جیک اسٹرا کے تبصرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مذہبی تقاضے کو بالکل نہیں سمجھتے۔
انہوں نے کہا کہ جیک اسٹرا ایک حکومتی اہلکار ہیں اور انہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ کہ وہ لوگوں کو ان کے لباس کے بارے میں مشورے دیں۔