http://bbc.com.im/urdu/

حماس نے حکومتی دفاتر بند کر دیئے

فلسطینی حکومت نے اپنے صدر دفتر پر احتجاجیوں کے حملے کے ایک دن بعد تمام سرکاری دفاتر میں کام بند کر دیا ہے۔

غزہ جھڑپوں میں آٹھ افراد ہلاک

حماس کی قیادت میں کام کرنے والی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تعطل برقرار ہے ’کیونکہ حکام کو اغوا بھی کیا گیا ہے‘۔

اس سلسلسے میں جاری کیئے جانے والے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ دفاتر کب سے کھلنا شروع ہوں گے اور اس سلسلے میں کیا اقدام کیئے جا رہے ہیں۔

اتوار کو غزہ میں حماس کے حامی کارکنوں اور صدر محمود عباس کے حمایوں کے درمیان تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر جھڑپوں میں چار شہری سمیت آٹھ فلسطینی ہلاک اور کم سے کم ساٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سوموار کو جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا لیکن تاہم ان میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔

حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ نے اتوار کی لڑائی کے بعد لوگوں سے پُر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔

فلسطینی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ حماس کے مسلح افراد کو غزہ سے جانے اور انتظام واپس ریگولر سیکیورٹی فورس کے حوالے کرنے کے لیئے کہا ہے۔

تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر احتجاج کرنے والوں میں وہ سرکاری اہلکار بھی شامل تھے جنہیں حماس کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔

یہ جھڑپیں اتوار کو اس وقت شروع ہوئیں جب حماس کے کارکنوں نے پولیس اور سرکاری ملازمین کا ایک مظاہرہ منتشر کرنے کی کوشش کی۔

اس واقعہ کے بعد فتح کے حامیوں نے حماس کے رہنما اور فلسطینی وزیر اعظم اسمعیل ہنیہ کا رملہ میں دفتر نذر آتش کر دیا۔ یہ لوگ ’جاؤ حماس جاؤ‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔