Monday, 02 October, 2006, 13:28 GMT 18:28 PST
عالمی سطح پر غیر قانونی اسلحہ کی خریدوفروخت کے بارے میں مناسب قوانین کی عدم موجودگی کی وجہ سے سوڈان اور یوگنڈہ جسیے ملکوں کو جن پر اسلحہ کی فروخت پر پابندی عائد ہے ہتھیار پہنچ رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے لیئے کام کرنے والی عالمی تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اوکسفام نے کی ایک رپورٹ ’آرمز ودآوٹ باڈرز‘ یا سرحدوں سے مبرا اسلحہ میں کہا ہے کہ عالمی سطح پر ہتھیاروں کی خریدوفروخت کے لیئے ایک معاہدہ ہونا چاہیے۔
اس رپورٹ میں یورپی اور شمالی امریکہ کی ایسی فرموں کا موازنہ ان ’فلیٹ پیک‘ اسٹورز سے کیا گیا ہے جس میں ہتھیاروں کے پرزے فروخت کیئے جاتے ہیں جن کو بعد میں جوڑ لیا جاتا ہے۔
اس رپورٹ کو ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے جو اسلحہ کے بارے میں اقوام متحدہ کا اہم فورم ہے۔
اوکسفام کے انٹرنیشنل ڈائریکٹر جرمی ہوبز کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں بہت سے نقائص اور ان کی وجہ سے ہونے والے جانی نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہتھیار فروخت کرنے والی کمپنیاں بین الاقوامی سطح پر کام کر رہی ہیں لیکن عالمی سطح پر کوئی قانون نہیں ہے نتیجتاً جابرانہ حکومتیں کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشل کے ڈائریکٹر جنرل ائرنی کان کا کہنا ہے کہ فوجیوں کے ہیلمٹ کی فروخت کے بارے میں قوانین موجود ہیں لیکن ایسے پرزاجات کی فروخت کے بارے میں کوئی قانون نہیں جو کہ مہلک ہتھیاروں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ لڑاکا ہیلی کاپٹروں اور حملہ کرنے والی گاڑیوں سمیت بہت سے ہتھیار لائسنس کے تحت چین، مصر، اسرائیل اور ترکی جیسے ملکوں میں تیار کیئے جارہے ہیں۔
اس رپورٹ میں ایک برطانوی کمپنی بی اے ای سسٹم کا نام لیا گیا ہے۔
اس کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی اور امریکی حکومت کے ساتھ کام کر رہی ہے اور ہتھیاروں کے لائسنس جاری کرنا ان حکومتوں کا کام ہے۔