Monday, 02 October, 2006, 01:37 GMT 06:37 PST
غزہ میں حماس کے حامی کارکنوں اور صدر محمود عباس کے حمایوں کے درمیان جھڑپوں میں چار شہری سمیت آٹھ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔
اس تشدد میں کم سے کم ساٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب حماس کے کارکنوں نے پولیس اور سرکاری ملازمین کا ایک مظاہرہ منتشر کرنے کی کوشش کی۔ یہ سرکاری ملازمین فلسطینی پارلیمان کی عمارت کے قریب تنخواہوں کی عدم ادائگی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق حماس کے کارکنوں نے مظاہرے کے قریب آکر ہوائی فائرنگ شروع کر دی جس کے بعد ان کارکنوں اور سکیورٹی افواج میں لڑائی شروع ہو گئی۔ سکیورٹی افواج صدر محمود عباس کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ جھڑپ میں چار سپاہی ہلاک ہوئے، جن میں سے تین کا تعلق صدر عباس کی فتح تنظیم سے تھا جبکہ ایک کا وزارت داخلہ کی فورس سے تھا جو کہ حماس کی حامی فورس ہے۔
اس واقعہ کے بعد فتح کے حامیوں نے حماس کے رہنما اور فلسطینی وزیر اعظم اسمعیل ہنیہ کا رملہ میں دفتر نذر آتش کر دیا۔ یہ لوگ ’جاؤ حماس جاؤ‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔
غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس سے بھی دونوں گروہوں میں مسلح جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔
صدر محمود عباس اور وزیر اعظم اسمعیل ہنیہ نے فون پر باتکرنے کے بعد لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پر امن رہیں۔
حماس اور فتح کے درمیان کشیدگی ملک کی اقتصادی صورت حال کی وجہ سے مزید بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل اور مغربی ممالک نے حماس کی حکومت پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے حکومت سرکاری ملازمین کی تنحواہیں ادا نہیں کر پا رہی۔
اسماعیل ہنیہ نے لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تمام پارٹیوں کو اس وقت اپنے اختلافات بھُلا کر کام کرنا ہوگا۔ صدر محمود عباس نے بھی کہا کہ وہ خانہ جنگی کی صورت حال نہیں پیدا ہونے دیں گے۔ دونوں طرف کے لیڈروں نے صورت حال کو قابو کرنے کی کوشش کی ہے اور رات تک غزہ میں پرتششد کارروائیاں تھم گئی تھیں۔