http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 30 September, 2006, 02:56 GMT 07:56 PST

بغداد میں مکمل کرفیو نافذ

عراقی حکومت نے دارالحکومت بغداد میں اتوار کی صبح تک کے لیے فوری طور پر کرفیو نافذ کردیا ہے۔ عراقی وزیراعظم کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس فیصلے کا اطلاق گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں پر بھی ہوگا۔

ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ کرفیو کیوں نافذ کیا گیا ہے تاہم حالیہ دنوں میں بغداد میں فرقہ وارانہ تشدد اور دھماکوں میں تیزی آئی ہے۔

جمعرات کو بغداد میں حملہ آوروں نے صدام حسین کی سماعت کرنے والی عدالت کے نئے چیف جج کے رشتے کے بھائی کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ سرکاری ٹیلی ویژن العراقیہ پر اعلان کیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت نے جمعہ کی شام سے اتوار کی صبح چھ بجے تک گاڑیوں اور افراد پر کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘]

حالیہ مہینوں میں کئی بار عراقی دارالحکومت میں گاڑیوں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ ایک شیعہ مزار پر حملے کے بعد گزشتہ فروری میں بغداد اور دیگر تین صوبوں میں تین دن کا کرفیو لگادیا گیا تھا لیکن اس کا اطلاق پیدل چلنے والوں پر نہیں تھا۔

حالیہ دنوں میں امریکی اور عراقی افواج نے بغداد میں مزاحمت کاروں اور فرقہ واریت پھیلانے والے ملیشیا گروہوں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔

بدھ کو امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ رمضان کی شروعات کے ساتھ ہی تشددہ میں اچانک اضافہ ہوا ہے۔ رمضان پیر کے روز سے شروع ہوا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ موت کے دستوں کے خلاف خصوصی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

ترجمان کے بیان کے فوری بعد ہی بغداد میں سنیوں کی ایک مسجد پر ہونے والی شوٹنگ میں دس لوگ مارےگئے جبکہ گیارہ افراد زخمی ہوگئے۔ روضۂ عسکری پر گزشتہ فروری میں حملے کے بعد شیعہ اور سنی ملیشیا گروہ ایک دوسرے کو نشانہ بنارہے ہیں۔