Friday, 29 September, 2006, 02:43 GMT 07:43 PST
امریکی سینیٹ نے صدر جارج بش کی ان تجاویز کی منظوری دیدی ہے جن کے تحت دہشت گردی کے شبہے میں غیرملکیوں کی پوچھ گچھ ہوسکے گی اور ان پر مقدمہ چلایا جاسکے گا۔
سینیٹ میں ان تجاویز کے حق میں 34 کے مقابلے میں 65 ووٹ ڈالے گئے۔ بش انتظامیہ کی لگ بھگ ایسی ہی تجاویز کی ایوانِ نمائندگان نے جمعرات کو منظوری دیدی ہے۔
چند دن کے اندر صدر جارج بش نئے بِل پر دستخط کردیں گے جس کے بعد یہ تجاویز قانون بن جائیں گی۔ نئے قانون کے تحت خصوصی ٹریبیونل قائم کیے جائیں گے جہاں گوانتانامو کے سینکڑوں قیدیوں پر مقدمہ چلایا جاسکے گا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ نئے قوانین کے ذریعے نومبر کے پارلیمانی انتخابات سے قبل اس بات کا اشارہ کرنا چاہتی ہے کہ وہ ’دہشت گردی مخالف جنگ‘ میں اپنے موقف پر سختی سے قائم ہے۔
حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین کے تحت قائم کیے جانے والے خصوصی ٹریبیونلوں میں قیدیوں کو وہی تحفظ نہیں فراہم ہوگا جو کہ انہیں موجودہ سِول عدالتوں میں ہے۔
نئے قوانین بنانے کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کیوں کہ امریکی سپریم کورٹ نے گزشتہ جون میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ بش انتظامیہ کی جانب سے قائم کیے جانے والے فوجی ٹریبیونل امریکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
نئے قوانین کے تحت قیدیوں کو پرانے نظام کی نسبت زیادہ حقوق حاصل ہوں گے لیکن اہم فرق یہ ہے کہ نئے قوانین کے تحت وہ اپنی حراست کے خلاف فیڈل کورٹ میں اپیل نہیں کرسکیں گے۔