http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 29 September, 2006, 16:43 GMT 21:43 PST

ایٹم بم ایران کا پرانا خواب ہے

ایران میں اسلامی انقلاب کے رہبر آیت اللہ خمینی کا لکھا ہوا ایک خط تہران میں سامنے آیا ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ انیس سو اسی کی دہائی میں عراق کے خلاف جنگ لڑنے والے ایرانی کمانڈر جوہری بم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ خط آیت اللہ خمینی نے انیس سو اٹھاسی میں عراق کے ساتھ جنگ کے آخری دنوں میں اپنے اعلیٰ اہلکاروں کو لکھا تھا۔ لیکن اسے ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے اب شائع کیا ہے۔

یہ خط ایرانی رہنماؤں کے ان بیانات کے مخالف نظر آتا ہے جن میں انہوں نے کہا ہے کہ ایران جوہری بم حاصل نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔

آیت اللہ خمینی کے لکھے گئے اس خط میں فوجی کمانڈرز کو وہ ضروریات بتائی گئی ہیں جن کے ذریعے وہ عراق کے ساتھ جنگ جاری رکھ سکیں۔ اس میں ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر، فوجیوں اور ہتھیاروں کا ذکر ہے۔ اور اس میں ایک اعلیٰ کمانڈر کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کو جنگ جیتنے کے لیئے اگلے پانچ سالوں میں لیزر گائڈڈ اور جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہو گی۔

چند ایرانی خبر رساں ایجنسیوں نے جوہری ہتھیاروں کا ذکر خط سے ہٹا دیا ہے کیونکہ ایران نے ہمیشہ اصرار کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ کئی مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔

آیت اللہ خمینی کے خط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عراق کے خلاف آٹھ سال تک جاری جنگ کی وجہ سے ملک کی فوج اور معیشت پر کتنا منفی اثر پڑا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ معیشت کی حالت تشویش ناک حد تک کمزور ہوگئی تھی اور فوج میں لڑنے کے لیئے سپاہیوں کی بھی بہت کمی تھی۔

آیت اللہ خمینی کا یہ خط اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران امریکہ سے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر ممکنہ ٹکراؤ کی تیاری کر رہا ہے۔ لیکن اس کا پس منظر یہ بھی ہے کہ سابق صدر ہاشمی رفسنجانی اور ایک اعلیٰ کمانڈر کے درمیان اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیت اللہ خمینی کو عراق کے ساتھ جنگ بندی پر رضامند کرنے میں کس کا زیادہ ہاتھ تھا۔