Friday, 29 September, 2006, 04:24 GMT 09:24 PST
اطلاعات کے مطابق ابومصعب الزرقاوی کی ہلاکت کے بعد ’عراق میں القاعدہ‘ کے نئے رہنما نے اپنا پہلا عوامی پیغام جاری کیا ہے۔
ابوحمزہ الماہجر نے ’عراق میں القاعدہ‘ کی سربراہی گزشتہ جون میں ابو مصعب الزرقاوی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد سنبھالی تھی۔
القاعدہ کے رہنما ابوحمزہ المہاجر نے اپنے پیغام میں بتایا کہ سن 2003 میں عراق پر امریکی حملوں کے بعد سے اب تک 4000 غیرملکی مزاحمت کار مارے گئے ہیں۔
یہ پہلی بار ہے کہ عراق میں ہلاک ہونے والے مزاحمت کاروں کی کوئی تعداد دنیا کے سامنے آئی ہے۔ تاہم اس تعداد کی غیرجانبدارانہ طور پر تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے۔
گزشتہ جولائی عراقی وزارت داخلہ نے بتایا تھا کہ دس مہینوں کے دوران عراق میں لگ بھگ 800 مزاحمت کار مارے گئے ہیں۔
اپنی ٹیپ میں ابوحمزہ المہاجر نے سائنسدانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کی مدد کریں تاکہ وہ عراق میں امریکی ٹھکانوں پر کیمیائی اور ایٹمی حملے کرسکیں۔
المہاجر نے یہ بھی اپیل کی کہ رمضان کے مہینے میں مغربی باشندوں کو اغوا کریں تاکہ ان کا شیخ عمر عبدالرحمان سے تبادلہ کیا جاسکے جو کہ امریکہ میں دہشت گردی کے الزام میں قید ہیں۔