Thursday, 28 September, 2006, 03:40 GMT 08:40 PST
امریکی صدر جارج بش نے پاکستان اور افغانستان کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے باہمی اختلافات دور کریں۔
جارج بش نے بدھ کی شام پاکستانی صدر پرویز مشرف اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے ڈِنر پر ملاقات کی۔ تینوں رہنماؤں کی اس میٹنگ کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنا تھا۔
واشنگٹن میں ہمارے نامہ نگار شاہزیب جیلانی کا کہنا ہے کہ ڈِنر سے قبل جارج بش نے نامہ نگاروں کو مختصرا یہ بتایا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ امریکہ کیسے پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعاون کو فروغ دے سکتا ہے۔
امریکی صدر نے حامد کرزئی اور پرویز مشرف سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کی شکست کے لیے مل جل کر کام کریں۔ لیکن جب پاکستانی اور افغان صدور جارج بش کے ساتھ سامنے آئے تو دونوں نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی اور ہاتھ بھی نہ ملائے۔
ہمارے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عوامی سطح پر ایسا کچھ بھی ظاہر نہیں ہوا کہ دونوں ملکوں کے اختلافات کم ہوگئے ہوں۔
پاک افغان سرحدی علاقے میں طالبان سے نمٹنے کے طریقہ کار پر دونوں ممالک کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ حامد کرزئی کا الزام ہے کہ مشرف طالبان سے نمٹنے کے لیے جو اقدامات کررہے ہیں وہ ناکافی ہیں جبکہ صدر مشرف ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
طالبان کی حکومت کے خاتمے کو پانچ سال ہوچکے ہیں مگر پھر بھی ہزاروں فوجی افغانستان میں طالبان کے خلاف صف آراء ہیں۔ ملک کے جنوب میں جھڑپیں اور پرتشدد کارروائیاں کافی تیز ہوچکی ہیں۔