Thursday, 28 September, 2006, 22:03 GMT 03:03 PST
برطانیہ کا کہنا ہے کہ صدر پرویز مشرف نے وزیراعظم ٹونی بلیئر کی اس یقین دہانی کو قبول کرلیا ہے کہ آئی ایس آئی پر سخت تنقید کرنے والی رپورٹ برطانیہ کی حکومتی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتی ہے۔
برطانوی وزارت دفاع کے لیے ایک سینیئر دفاعی اہلکار کی تحریر کردہ اس رپورٹ میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر افغانستان میں طالبان کی بلاواسطہ حمایت کرنے اور القاعدہ کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
اس خفیہ رپورٹ کے اقتباسات بی بی سی ٹیلی ویژن کے پروگرام نیوزنائٹ پر بدھ کی شب نشر کیے گئے تھے۔
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ لندن کے باہر ان کی رہائش گاہ پر جنرل مشرف کے ساتھ ہونے والی دو گھنٹوں کی ملاقات کے دوران پاکستانی صدر نے ٹونی بلیئر کی یقین دہانی کو قبول کرلیا۔
پاکستانی صدر نے برطانوی وزارت دفاع کی اس رپورٹ پر سخت تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ معاملہ وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ اپنی ملاقات میں اٹھائیں گے۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ برطانوی پالیسی کا صرف ایک مسودہ ہے جسے ایک جونیئر آفیسر نے تحریر کیا ہے اور اسے اعلیٰ اہلکاروں نے ابھی دیکھا بھی نہیں ہے۔
ٹونی بلیئر کے ترجمان نے کہا کہ جمعرات کے روز اپنی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں افغانستان کے معاملات پر بھی بات چیت کی اور برطانوی وزیراعظم نے دہشت گردی مخالف مہم میں کردار کے لیے جنرل مشرف کا شکریہ ادا کیا۔