Wednesday, 27 September, 2006, 18:38 GMT 23:38 PST
امریکی صدر بش پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی غرض سے دونوں ممالک کے صدور کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کریں گے۔
صدر پرویز مشرف اور افغان صدر حامد کرزئی عشائیے پر صدر بش سے ملیں گے۔ توقع ہے کہ مذاکرات میں دہشتگردی اور سکیورٹی امور کے معاملات سرفہرست ہوں گے۔
پاک افغان سرحدی علاقے میں طالبان سے نمٹنے کے طریقہ کار پر دونوں ممالک کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
کرزئی کا الزام ہے کہ مشرف طالبان سے نمٹنے کے لیئے جو اقدامات کررہے ہیں وہ ناکافی ہیں جبکہ صدر مشرف ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔
طالبان کی حکومت کے خاتمے کو پانچ سال ہوچکے ہیں مگر پھر بھی ہزاروں فوجی افغانستان میں طالبان کے خلاف صف آراء ہیں۔ ملک کے جنوب میں جھڑپیں اور پرتشدد کارروائیاں کافی تیز ہوچکی ہیں۔
بدھ کو ہلمند میں افغان فوجیوں نے 25 مشتبہ طالبان کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔
صدر کرزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان طالبان کے حامیوں کو نظر انداز کررہا ہے اور یہی لوگ پاکستان سے تربین حاصل کرکے افغانستان پر حملے کرتے ہیں۔ وہ پاکستان پر سابق طالبان رہنماؤں کو پناہ دینے کا الزام بھی لگاتے ہیں۔
کرزئی نے حال ہی میں پا کستانی حکام اور وزیرستان کے عمائدین کے درمیان ہونے والے معاہدے پر بھی سخت تنقید ہے اور کہا ہے کہ اس کے بعد سے افغانستان میں دہشتگردی بڑھ گئی ہے۔
![]() | |
| منگل کو صدر بش اور صدر کرزئی نے واشنگٹن میں مذاکرات کیئے |
منگل کو صدر بش اور صدر کرزئی نے واشنگٹن میں مذاکرات کیئے۔ بش نے افغانستان میں تعمیر نو اور سکیورٹی میں کردار ادا کرنے کا اعدہ کیا۔
بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ صدر بش مشرف اور کرزئی کے درمیان تناؤ پر تشویش کا شکار ہیں۔
افغانستان میں تشدد کے بڑھتے واقعات پر دونوں رہنماؤں کے لیئے بش کا یہی پیغام ہوگا کہ حالات بہتر بنانے کے لیئے تعاون کریں۔
ہلمند میں منگک کو ایک خودکش حملے میں 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
افغانستان میں برطانوی فوج کے کمانڈر کا دعوٰی ہے کہ انہوں نے ہملند میں طالبان جنگجوؤں کو شکست دے دی ہے۔