Tuesday, 26 September, 2006, 05:33 GMT 10:33 PST
شاہ زیب جیلانی
بی بی سی واشنگٹن
پاکستان میں اس سال مارچ میں صدر بش کے پاکستان کے دورے کے بعد یہ تاثر روز بہ روز زور پکڑتا جا رہا تھا کہ امریکہ نے جنرل مشرف پر سے اپنی شفقت کا ہاتھ کھیچنا شروع کردیا ہے۔
پاکستان میں اگر اپوزیشن بش حکومت سے یہ آس لگائے بیٹھی تھی کہ وہ جنرل مشرف کی امریکہ یاترا کے دوران ملک میں موجودہ جیسی تیسی جمہوریت کی بجائے اصل جمہوریت کی بحالی پر زور ڈالیں گے، تو ایسا بظاہر نہیں ہوا۔
مشرف امریکہ یاترا |
لیکن کیوں؟
امریکی نقطۂ نگاہ سے پاکستان میں اس کا اولین مفاد دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کا ساتھ ہے۔ اور امریکہ کی نظر میں اس کام میں فوج کے سربراہ صدر مشرف سے موزوں کوئی اور نہیں۔
امریکیوں نے دو دو بار نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی کام کیا ہے اور خوب جانتے ہیں کہ پاکستان میں عوامی ووٹ لے کر وزیرِاعظم بننے والےرہنماؤں کے پاس اہم ترین فیصلے کرنے کے کتنے اختیارات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر بش کی ٹیم میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو جیسے رہنماؤں کو واپس اقتدار میں آتا دیکھنے کے لیئے کوئی بے چینی نہیں پائی جاتی۔
واشنگٹن میں پاکستان کا تجربہ رکھنے والے کچھ امریکی سفارتکار خبردار کرتے ہیں کہ امریکہ کی یہ کوئی زیادہ دانشمندی نہیں کہ وہ آنکھیں بند کرکے اپنی تمام تر حمایت فردِ واحد پر لگا دے۔ ان کے نزدیک خطے میں امریکی مفادات کے مکمل فروغ کے لیئے ضروری ہے کہ جنرل مشرف پر کچھ نہ کچھ دباؤ برقرار رکھا جائے۔ اس کے لیئے، ان کے نزدیک، ضروری ہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستان میں اقتدار کی خواہاں دیگر سیاسی اور فوجی قوتوں کے ساتھ بات چیت کے راستے کھلے رکھے اور وقتاً فوقتاً جمہورت اور انسانی حقوق کی بحالی کا ذکر چھیڑ دیا جائے۔
یہ واضح ہے کہ موجودہ امریکی حکومت میں اس نقطۂ نظر کے حامل طبقے کی کم سُنی جاتی ہے۔ صدر بش پر جو لابی اثر رکھتی ہے وہ جنرل مشرف کو مضبوط کرکے خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ چاہتی ہے۔
بہرحال پاکستانی صدر کی اس امریکہ یاترا سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوا یہ واضع نہیں۔ البتہ جنرل مشرف اس دورے کو اپنی شخصی کامیابی کے لیئے استعمال کرنے میں خاصے کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ رہا سوال پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کا، تو اس کے لیئے لگتا ہے کہ بینظیر بھٹو اور نوازشریف جیسے سیاسی رہنماؤں کو مذید انتظار کرنا ہوگا۔